وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، اس کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی رگیں ہیں اور یہ کھلی رہنی چاہئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ایوان سے چوتھی بار خطاب میرے لیے باعث اعزاز ہے، خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی متحرک قیادت سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اینا لینا بائر بوک کا بہترین قیادت پر شکریہ ادا کرتا ہوں، امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قرآن مجید کی سورة الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔
انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کیا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ کھڑے ہیں اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے مکمل تعاون کریں گے، یہی پاکستان کے اندر اور بیرونی دنیا کے لیے ہمارے اصول کی بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2788 قرارداد کی متفقہ منظوری دنیا کے امن کے لیے ہمارے غیرمتزلزل عزم کا اظہار ہے۔









