ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کے لیے تیل کی سپلائی منسوخ کر دی

24

سعودی عرب نے اہم آئل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد یورپ کے لیے تیل کی کچھ سپلائی منسوخ کردی، جس کے باعث بڑے خریداروں نے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کردی جبکہ یورپی مارکیٹ میں خام تیل کے کارگو کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی معطل کردی گئی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

حملوں کے بعد سعودی حکام نے جمعہ کو مشرق سے مغرب تک صحرا میں قائم تیل کی پائپ لائن بند کردی جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتی رہی تھی۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپی صارفین، بالخصوص پولینڈ، متبادل تیل کی تلاش میں تیزی لانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے مزید تیل برآمد کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نام نہاد ڈارک شپمنٹس کا سہارا لیا جاسکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں