پچیسویں روز بھی 31 مقامات پر جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے جاری

19

لاہور سمیت کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، حیدرآباد، سرگودھا، فیصل آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے پچیسویں روز بھی جاری رہے ۔ دھرنوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ خواتین، مرد، بچے، بزرگ اور نوجوان بھی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شریک ہیں۔

شرکا نے ہاتھوں میں بینرز، پینا فلیکسز اور احتجاجی کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر پٹرولیم لیوی، مہنگائی، بھاری ٹیکسز اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ نوجوانوں نے پرجوش اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔اس موقع پر قائمقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن،امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری ،صوبائی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر بابر رشید،نصر اللہ گورائیہ، ذکر اللہ مجاہد، اظہر بلال، خالد بٹ، جبران بٹ، احمد سلمان بلوچ، عمران الحق و دیگر بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے پچیس روز سے جاری ہیں اور یہ احتجاج کسی سیاسی مفاد یا اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عوام کو مہنگائی، ناجائز ٹیکسز اور ظالمانہ معاشی پالیسیوں سے نجات دلانے کے لیے ہے۔ حکومت عوام کے صبر کا مزید امتحان لینے کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور جماعت اسلامی کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو فوری طور پر منطقی انجام تک پہنچائے۔

محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پٹرولیم لیوی اور مختلف ٹیکسز کے ذریعے عوام کی جیبوں پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے، بجلی، پٹرول اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے فوری اور عملی ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عوام حکومتی معاشی پالیسیوں سے شدید نالاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی اور جب تک عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملتا، احتجاج کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کارکنان اور شرکا کو پرامن اور منظم انداز میں تحریک جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔دھرنے کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی میں کمی، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو فوری معاشی ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس موقع پر شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی اور اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں