شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے 6 لاکھ 33 ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کی اجازت کا مطالبہ زور پکڑ گیا

21

شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک بار پھر 6 لاکھ 33 ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کی اجازت کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے آڈٹ حکام کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شوگر سیکٹر ملز مالکان اور حکمرانوں کیلئے آمدن کا بڑا ذریعہ بن چکا گزشتہ سال حکومت نے پہلے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی تو صارفین 120 روپے کلو والی چینی 200 روپے سے زائد میں خریدنے پر مجبور ہوئے.

رپورٹ کے مطابق قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی ٹیکس اور ڈیوٹی معاف کر کے درآمد کی گئی مگر قیمتیں کم ہوئیں نہ درآمدی چینی فروخت ہو سکی اب حکومت دوبارہ 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرچکی گزشتہ سال اسلام آباد میں چینی 55 روپے، خضدار میں 56، کوئٹہ میں 58، پشاور میں 72، فیصل آباد میں 52، لاہور میں 44، سیالکوٹ میں 49، حیدرآباد میں 57، سکھر میں 64 اور کراچی میں چینی 55 روپے کلو مہنگی فروخت ہوتی رہی.

آڈٹ حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ اس من مانی سے عوام پر 300 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑا جبکہ مسابقتی کمیشن کے مطابق شوگر ملز نے 13 فیصد اضافی پیداوار کا جھوٹا ڈیٹا دے کر چینی برآمد کی 57 لاکھ میٹرک ٹن کی پیداوار کو 66 لاکھ ظاہر کیا گیا مالی سال 2019-20 میں ملز مالکان کو 2 ارب 47 کروڑ روپے سبسڈی ملی. رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2020 کے درمیان چینی برآمد میں بڑے فراڈ کا پردہ چاک ہوا افغانستان کو 23 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن برآمد کا دعوی کیا گیا مگر ڈیٹا کے مطابق صرف 15 لاکھ میٹرک ٹن چینی افغانستان پہنچی 7 لاکھ 78 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ریکارڈ ہی غائب ہیں قیمتیں بڑھانے پر 38 شوگر ملز کے خلاف مقدمات درج ہوئے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے ایف آئی آرز درج کرائیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو شبہ تھا کہ قیمتیں بڑھا کر عوام سے 110 ارب روپے بٹورے گئے 2018 سے 2020 تک پیداواری لاگت کے غلط اعداد و شمار سے 53 ارب کا اضافی منافع کمایا گیا ملز مالکان نے 18 ارب روپے کا کارپوریٹ ٹیکس بھی بچایا. دستاویز کے مطابق2020 تک حکومت سے چینی برآمد کرنے کیلئے 4ارب 12کروڑ کی سبسڈی بھی لی گئی ایک بار پھر شوگر ملز مالکان 80 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کا تخمینہ دے کر 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اسی بنیاد پر 6 لاکھ میٹرک ٹن برآمد کی فوری اجازت مانگ لی دوسری طرف حکومت آئی ایم ایف کی شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی شرط ابھی تک پوری نہیں کر پائی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں