گدر واقعہ کیخلاف بی این پی کا 16 اگست کو مظاہرئوں کا اعلان

33

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے سوراب میں حکومت کی جانب سے نہتے عوام پر بمباری سے خواتین، بچوں سمیت درجنوں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ 75 سالوں سے پانچواں آپریشن جاری ہے۔

جس میں حکومت اور طاقتور حلقے کچھ حاصل نہیں کرسکیں کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کے لئے ایک سنجیدہ مکالمہ کرکے حل نکالنے کی ضرورت ہے اور اس کے خلاف 16 اگست کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

جس کے بعد پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس بلاکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، میر غلام نبی مری، موسیٰ جان بلوچ، میر عبدالوحید لہڑی، میر مقبول لہڑی ، صمند بلوچ ، چیئرمین جاوید بلوچ، ٹکری شفقت لانگو، اختر حسین لانگو، رمضان بلوچ ، فریدہ بلوچ، چیئرمین واحد بخش بلوچ، شمائلہ اسماعیل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت طاقت کے زور پر لوگوں کی زبان بندی کرنے کے لئے کارروائیاں کررہی ہے جس طرح جیٹ طیاروں کے ذریعے بلوچستان کے علاقے سوراب میں گدر کے مقام پر مقامی آبادی پر حملہ کیا گیا۔

جس میں خواتین، بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور اسی طرح زخمی ہوئے ہیں اس انسانیت سوز واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کھڈ کوچہ، اس کے علاوہ خضدار کے علاقے ساسول میں بھی اس طرح کی بمباری کی گئی ہے جس سے بے گناہ نہتے لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں اور عوام تحفظ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح کی کارروائیاں انسانی اور قانونی اقدامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اس واقعہ کے خلاف سوراب کے مکینوں کی جانب سے نعشوں کے ہمراہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دیئے گئے دھرنے کی حمایت کرتے ہیں اور ہماری جماعت کارکن اور رہنماء ، خضدار، سوراب ، قلات سے دھرنے میں شامل ہوں انہوں نے کہا کہ سول آبادی کو بمباری سے نشانہ بنانا جنگی حصولوں کی خلاف ورزی ہے جس طرح بلوچستان کے حالات خراب ہیں اسی طرح خیبر پختونخوا کے حالات گھمبیر ہیں اور لوگوں کی ترجیح ہے کہ امن قائم ہو انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سال سے ان دونوں صوبوں حالات کیوں خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں۔

ان صوبوں میں بسنے والے لوگوں کا بھی ارمان ہے کہ امن قائم ہو اور وہ بغیر کسی خوف پر امن زندگی گزاریں لیکن ایسا اقدام نہیں اٹھایا جارہا ہے جس سے حالات بہتر ہوں ریاست صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے اس طرح کے اقدامات کررہی ہے اور بمباری سے بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کے خلاف 16 اگست اتوار کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں بی این پی اور بی ایس او کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

اس کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس بلاکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور گھمبیر حالات کا جائزہ لینے کے لئے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دیا جائے جو آزاد ، خود مختار اور غیر جانبدار ہوکر حقائق قوم کے سامنے لائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے کے حالات کے حوالے سے اپنا واضح موقف رکھتی ہے اور ہر فورم پر اس کا اظہار بھی کرتی ہے اس حوالے سے اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی تھی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حالات کی بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ قلات، کھڈ کوچہ، سوراب، زہری ، نوشکی سمیت دیگر علاقوں میں کرفیو کس لئے لگا رکھا ہے اگر حالات بہتر ہے تو کرفیو کیوں لگاتے ہوں آپ نے خود سڑکیں بند کرکے شام 5 بجے کے بعد پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کی آمدو رفت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کا سیاسی حل نکالنے کے لئے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے جس پر توجہ نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں