قومی شاہراہوں پر بھتہ خوری نہ رکی تو پرچون گڈز کی ترسیل بند کر دیں گے، انجمن تاجران بلوچستان

12

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑنے کہا ہے کہ قومی شاہراہوں پر پرچون گڈز کمپنیوں سے بھتہ وصول کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

بصورت بلوچستان پرچون گڈز ایسوسی ایشن کراچی تا کوئٹہ اور کوئٹہ تا مستونگ ،قلات سوراب ،خضدار اوراس روٹ سے منسلک علاقوں کیلئے اپنی سامان کی ترسیل غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کرنے پر مجبور ہونگے۔

جس سے صوبے بھر میں اشیائے ضروریہ کی قلت، مہنگائی اور شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو حضرت علی اچکزئی ، میریاسین مینگل ،سیدداود اللہ آغا، محمدابراہیم نیچاری ، حاجی خلیل ،حاجی حضرت احمد شاہ ناصر اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ پرچون گڈز ٹرانسپورٹ بلوچستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس شعبے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے آنے والی اشیائے خورونوش، ادویات، الیکٹرانکس اور دیگر سامان انہی گڈز کمپنیوں کے ذریعے بلوچستان کے ہر ضلع تک پہنچایا جاتا ہے، تاہم امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث صوبے کی سپلائی چین شدید خطرات سے دوچار ہے۔

عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ کراچی سے کوئٹہ آنے والے مال بردار ٹرک قومی شاہراہ سے اغوا کرکے ویران علاقوں میں لے جائے جاتے ہیں، مالکان سے لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا جاتا ہے اور بھتہ نہ دینے پر کروڑوں روپے مالیت کا سامان لوٹ لیا جاتا ہے جبکہ گاڑیوں پر فائرنگ اور بعض ٹرکوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مستونگ، قلات، سوراب اور خضدار کے علاقوں میں یہ وارداتیں دن دہاڑے ہو رہی ہیں قومی شاہراہ پر متعدد چیک پوسٹوں کے باوجود جرائم پیشہ عناصر کھلے عام سرگرم ہیں اور بعض مقامات پر منظم گروہوں نے اپنے نمائندے بٹھا کر پرچون گڈز کمپنیوں سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ٹرک سے 10 لاکھ روپے یا اس سے زائد بھتہ طلب کیا جاتا ہے جس کا اضافی مالی بوجھ بالآخر تاجروں اور عوام پر پڑتا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹرانسپورٹ بند ہوئی تو آٹا، چینی، گھی، دالیں، چاول، بچوں کی خوراک، ادویات سمیت دیگر ضروری اشیاء کی سپلائی متاثر ہوگی جبکہ کپڑے، جوتے، الیکٹرانکس، ہارڈویئر، آٹو پارٹس اور تعمیراتی سامان کی ترسیل رکنے سے بازاروں میں قلت پیدا ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قلت کی صورت میں قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور غریب عوام، مزدور، مریض، چھوٹے دکاندار اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ ہڑتال یا ترسیل بند کرنا مقصد نہیں،

حکومت کو بروقت صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم ریاستی رٹ بحال نہ کی گئی تو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

انہوں نے حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان، کور کمانڈر، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور آئی جی ایف سی سے قومی شاہراہوں پر فوری سکیورٹی فراہم کرنے، بھتہ خوری، اغوا اور لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، منظم نیٹ ورکس کے خاتمے اور قومی شاہراہوں پر مستقل پٹرولنگ کا مطالبہ کیا۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے بلوچستان پرچون گڈز ایسوسی ایشن کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سخت احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں