صوبے میں امن و امان کی صورتحال سنگین قومی بحران میں تبدیل ہوگئی ہے، پشتونخوانیپ

15

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں صوبے میں امن و امان کی مسلسل مخدوش اور ابتر ہوتی ہوئی صورتحال، قومی شاہراہوں پر مسلح گروہوں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی اور ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اب ایک سنگین قومی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث عوام کی جان، مال، عزت، کاروبار اور نقل و حرکت شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شب، 20 جولائی کو منگوچر کے مقام پر ڑوب سے تعلق رکھنے والے حاجی پائند خان کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والا دلخراش سانحہ، جس میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں دو بے گناہ خواتین شہید ہوئیں جبکہ خاندان کے دیگر افراد شدید ذہنی صدمے اور خوف و ہراس کا شکار ہوئے، اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ صوبے کی قومی شاہراہیں مسافروں، تاجروں اور عام شہریوں کے لیے غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔

پارٹی نے اس افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

بیان میں کہا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع، بالخصوص کوئٹہ۔کراچی قومی شاہراہ، مستونگ، منگوچر، قلات، سوراب، خضدار اور دیگر علاقوں میں مسلح گروہوں، ڈاکوؤں، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں، اور 17 جولائی کو بھی اسی مقام پر دو لاشوں کو لانے والے کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا جبکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور شاہراہوں پر ریاستی عملداری قائم رکھنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

اس مسلسل بدامنی نے نہ صرف شہریوں کی زندگی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے بلکہ صوبے کی معاشی سرگرمیوں، تجارت اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ماضی میں ایران بارڈر سے آنے والے تاجروں کے مال بردار ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنے اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آتے رہے، لیکن اب صورتحال مزید تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیاں، مال بردار گاڑیاں، ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیور بھی جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ قومی شاہراہوں پر سامان سے لدے ٹرکوں کو لوٹا جا رہا ہے، ڈرائیوروں کو اغوا کیا جا رہا ہے، ان کی رہائی کے لیے بھاری بھتہ طلب کیا جاتا ہے اور تجارتی سامان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جس کے باعث صوبے کی اقتصادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور تاجروں میں خوف و بے یقینی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر صوبے کی اہم ترین قومی شاہراہوں پر شہری، مسافر، تاجر، ٹرانسپورٹرز اور مال بردار گاڑیاں محفوظ نہیں تو یہ حکومت کی عملداری، انتظامی صلاحیت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

عوام یہ محسوس کرنے پر مجبور ہیں کہ بعض قومی شاہراہوں پر ریاست کی رٹ ختم پڑ چکی ہے اور جرائم پیشہ عناصر بلاخوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ موجودہ سنگین حالات کے پیشِ نظر ٹرانسپورٹروں اور تاجروں نے کوئٹہ سے کراچی، مستونگ، قلات، سوراب، خضدار اور ان سے ملحقہ علاقوں کی جانب سامان کی ترسیل غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ، وفاقی حکومت اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ قومی شاہراہوں پر فوری اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں، مسلح گروہوں، ڈاکوؤں، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے، تاجروں، ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور عام مسافروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور بھتہ خوری میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

بیان کے اختتام پر خبردار کیا گیا کہ اگر امن و امان کی بحالی، قومی شاہراہوں کی حفاظت اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

صوبہ بھر میں سامان کی ترسیل مکمل طور پر بند کرنے سمیت دیگر سخت عوامی اور جمہوری فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں، جن کی تمام تر ذمہ داری حکومت، متعلقہ ریاستی اداروں اور امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار حکام پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں