جمعیت علماء اسلام مستونگ کے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا شبیر احمد عثمانی نے سراوان پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کھڈکوچہ میں گزشتہ دنوں مسجد و مدرسہ اور سول آبادی پر شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کھڈکوچہ میں مخدوش صورتحال میں مسجد و مدرسہ اور سول آبادی پر شیلنگ کی گئی.
جس کے تناظر میں شعاعراللہ کی توہین کی گئی اور چادر و چاردیواری کی پامالی گئی، جس کی جمعیت علماء اسلام مستونگ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیکہ واقعہ کی تحقیقات کرکے انصاف فراہم کیا جائے، سولین شہیدوں کو سرکاری طور پر شہدا قرار دیاجائے انھوں نے کہاکہ مسجد و مدرسہ کی تقدس کی پامالی پر اللہ تعالٰی کے حضور اور عوام الناس سے برملا معافی مانگی جائے اور زخمیوں کو سرکاری سطح پر علاج اور معاوضہ دیا جائے زمینداروں اور تاجر برادری کے معاشی قتل بند کیا جائے۔
اس موقع پر ضلعی اراکین عاملہ ٹکری حاجی حیات لہڑی مفتی عصمت عزیزمولانا حماد اللہ مولانا سعید احمد،ڈاکٹر عبد الباسط عبد القادر قریش مولانا محمود سیفی قاری عزت اللّٰہ مولانا شکیل احمدساجد،حافظ عظمت اللّٰہ، رندمولاناجان محمد مولانا ہدایت اللہ و دیگر ذمہ داران کثیر تعداد میں موجود تھے۔
انھوں نے مزید کہاکہ جمعیت علماء اسلام کے امیر امام انقلاب قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن نے 11 جولائی کو پنجاب کے ضلع قصور میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران موجودہ ناجائز حکومت اور مقتدر قوتوں کو انکی غلط اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے حوالے سے آئینہ دیکھایا تو مقتدر حلقوں کے ایماء پر حکومتی وزراء پالتو تنخواہ دار پروردہ کارندے قائد جمعیت کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈہ پر اتر آئے،
انھوں نے کہا کی دراصل پنجاب میں قائد جمعیت کی انٹری اور بے پناہ مقبولیت کچھ مقتدر حلقوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قائد کے ہر گفتگو کی جمعیت علماء اسلام ذمہ دار ہے اور اگر کسی حلقے کو سمجھ نہیں آتا تو اسکے سمجھ کے ہم ذمہ دار نہیں ہے،
انھوں نے کہاکہ ہم واضع کرنا چاہتے ہے کہ قائد جمعیت کے خلاف پروپیگنڈہ بند کرکے برملا معافی مانگی جائے، ورنہ صوبائی قائدین کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ضلع مستونگ کے تمام کارکنان سر پر کفن باندھ کر دن تو کیا انشاء اللہ رات کو بھی کارواں سفر رینگے









