مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل، عمران ترین، حاجی سعداللہ اچکزئی، عبدالخالق آغا، محمد جان آغا درویش، حاجی ظفر کاکڑ، حاجی ہاشم کاکڑ اور دیگر کابینہ اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شالکوٹ تھانے کی حدود، بالخصوص ہزارگنجی کمرشل زون، میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔
ڈکیتی، چوری، موٹرسائیکل چھیننے، گن پوائنٹ پر تاجروں اور شہریوں سے نقدی لوٹنے اور اسلحے کے زور پر وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں، جبکہ متعلقہ پولیس ان جرائم پر قابو پانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔بیان میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان ہزارگنجی زون کے صدر سید عبدالخالق آغا، عبدالسلام بادینی، میر عام بنگلزئی، حاجی نقیب کاکڑ، حاجی مرتضیٰ خان نورزئی، حاجی صدر کاکڑ، سید عبدالقدیم آغا، نجیب خان کاکڑ، رمضان خان بڑیچ، ظفر بڑیچ اور آل بلوچستان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن ہزارگنجی زون کے صدر سید حجت اللہ آغا نے کہا کہ ہزارگنجی کمرشل زون بلوچستان کا ایک انتہائی اہم تجارتی مرکز ہے، جہاں روزانہ ہزاروں تاجر، ٹرانسپورٹر، مزدور اور شہری آتے ہیں، مگر افسوس کہ یہاں تاجروں اور عوام کے جان و مال کا کوئی تحفظ نظر نہیں آتا۔
ڈاکو دن دہاڑے اسلحے کے زور پر لاکھوں روپے لوٹ کر باآسانی فرار ہوجاتے ہیں اور کئی مواقع پر مزاحمت کرنے والے تاجروں کو گولیاں مار کر قتل یا زخمی بھی کر دیتے ہیں، لیکن پولیس کی جانب سے مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی۔بیان میں کہا گیا کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے متعدد بار شالکوٹ تھانے کے متعلقہ حکام سے علاقے میں پولیس گشت بڑھانے، مشکوک عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، مگر افسوس کہ ان شکایات پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی، جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوتے جا رہے ہیں اور تاجر برادری شدید خوف و ہراس میں کاروبار کرنے پر مجبور ہے۔
بیان میں کہا کہ بدامنی صرف ہزارگنجی تک محدود نہیں بلکہ پورا کوئٹہ شہر جرائم کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ سیٹلائٹ ٹاؤن، نیا اڈہ، سریاب روڈ، اسپنی روڈ، بروری روڈ اور دیگر علاقوں میں بھی ڈکیتی، اسلحے کے زور پر لوٹ مار، موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی چوری سمیت مختلف جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایسی صورتحال میں نہ تاجر محفوظ ہے، نہ ٹرانسپورٹر، نہ سرمایہ کار اور نہ ہی عام شہری، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں اور شہر کی معاشی صورتحال بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت ہر سال امن و امان کے قیام کے لیے خطیر وسائل مختص کرتی ہے، مگر عوام کو اس کا عملی فائدہ کہیں نظر نہیں آ رہا۔ اگر تاجروں اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاسکتا تو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنا ایک فطری امر ہے۔ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی کوئٹہ، ایس ایس پی آپریشنز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ شالکوٹ تھانے کی حدود، خصوصاً ہزارگنجی کمرشل زون میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے اور تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ تاجر برادری کو مزید احتجاج پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
ڈکیتی، چوری، موٹرسائیکل چھیننے، گن پوائنٹ پر تاجروں اور شہریوں سے نقدی لوٹنے اور اسلحے کے زور پر وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں
8









