امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کومقتل گاہ،نوگوایریابناکر خوف ودہشت کاماحول بنادیاگیاہے روزانہ قتل وغارت گری جیسے بڑے دل دہلادینے واقعات ہورہے ہیں تاجرمحفوظ ہیں نہ سیاح اورمسافر۔کوئلے کے ٹرک محفوظ ہیں نہ مسافرکوچز۔طلبا محفوظ ہیں نہ سیاسی ورکرزوتبلیغی جماعت والے محفوظ ہیں۔
ان سب کے ذمہ دار سیکورٹی فورسز حکومت وادارے ہیں۔کب تک حقیقت کے برخلاف سب ٹھیک ہے ومذمت اورجھوٹے وعدوں پرعوام کوورغلاتے رہیں گے۔فارم47 کی مرضی کی حکومت،انصاف فراہم کرنے والے ادارے ومیڈیاسب کنٹرول میں رکھنے کے باوجودعوام کی جان ومال محفوظ نہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادروکراچی میں وفودسے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان مقتل گاہ بن گیاحالات اندازوں ورپورٹس سے بہت زیادہ خراب ہیں۔
خون آلودبلوچستان،بدامنی کے روزانہ واقعات اور موجودہ پریشان صورتحال میں بھی اسلام آباد کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلوچستان کے عوام امن کس سے مانگی گلہ کس سے کریں ذمہ دارکون ہیں بلوچستان میں ایک ہی دن تین بڑے سانحات تاجرقتل،سیاح قتل،تبلیغی جماعت پرفائرنگ۔کسی کا قاتل منظرِ عام پر نہیں آیا۔یہ واقعات تورپورٹ ہوئے اورجوواقعات رپورٹ نہیں ہوتے وہ کتنے ہوں گی بجٹ میں90ارب روپے سے زیادہ عوام کی حفاظت کیلئے،کوئٹہ میں ہزاروں سیکورٹی کیمرے،فورسز،اربوں روپے سیف سٹی پرخرچ ہوئے لیکن ہرواقعے کے بعدعوام کوتحفظ دینے والے بھی مذمت دعوے اوروعدے کرتے ہیں۔
تحفظ فراہم نہیں کرتے۔آخر یہ بلوچستان میں ہوکیارہاہی کب تک بے گناہ لوگوں کا خون یوں ہی بہتارہے گا کب تک معصوم بچے اپنے والدین سے محروم ہوتے رہیں گی بچییتیم وبہنیں بیوہ ہوتے رہیں گی کب تک خوف،بے بسی اور خاموشی اس سرزمین کا مقدر بنی رہے گی یہ صرف چند واقعات نہیں،بلکہ انسانیت کے سینے پر لگے ایسے زخم ہیں جو ہرباشعور وحساس دل کورلادیتے ہیں۔
وقت آگیاہے کہ جان و مال کے تحفظ کو ہر اختلاف سے بالاتر رکھا جائیکیونکہ امن ہی ہر معاشرے کی پہلی ضرورت ہے۔اداروں،طاقتورطبقات وحکمرانوں کواہل بلوچستان کوہرصورت امن دیناہوگاحقوق روزگاروترقی دینے ہوں گے۔زورزبردستی طاقت کااستعمال بے عمل دعوے ،ہرواقعے کے بعدشدیدمذمت،مسائل کاحل نہیں۔جماعت اسلامی ہرظلم وظالم کے خلاف مظلوم عوام کیساتھ ہے۔









