پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ فارم47کے نام نہاد حکومت کی جانب سے گرینڈ الائنس کی احتجاجی سرگرمیوں میں شریک افسران اور ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ، سالانہ انکریمنٹس اور ترقیوں پر پابندی، نیز ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کی کٹوتی سمیت مختلف سزاؤں کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گرینڈ الائنس کی احتجاجی اور ہڑتالی سرگرمیوں میں شریک 34 افسران اور ملازمین کے سالانہ انکریمنٹس روکنے، ترقیوں پر پابندی عائد کرنے اور ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کی کٹوتی سمیت مختلف سزائیں دینا ایک غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام ہے۔ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا حق دیتا ہے۔ ملازمین کے خلاف اس نوعیت کی انتقامی کارروائیاں نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سرکاری ملازمین میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش بھی ہیں۔حکومت ملازمین سے کیئے گئے وعدوں کی پاسداری کی بجائے بجٹ سے قبل ایک بار ملازمین میں خوف وہراس پھیلانے کے لیے غیرآئینی نوٹیفکیشن جاری کرکے ملازمین کے جمہوری احتجاج کو روکنے کے لئے جو حربہ استعمال کررہی ہے یہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ ملازمین کے تمام جائز مطالبات کی پشتونخوامیپ پہلے روز سے حمایت کرتی چلی آئی ہے اور آج بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ ملازمین اپنے متعلقہ اداروں میں حاضری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کی بہترانداز میں سرانجام دیں اور حکومت ملازمین کے ساتھ کیئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کے تمام جائز مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مشاورت کا راستہ اختیار کرے نہ کہ برحق اختلافِ رائے رکھنے والوں کو سزاؤں اور پابندیوں کا نشانہ بنائے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پرمذکورہ نوٹیفکیشن کو واپس لیں۔ ایسے اقدامات جمہوری اقدار، آئینی آزادیوں اور صنعتی و انتظامی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
افسران کی جبری ریٹائرمنٹ، سالانہ انکریمنٹس اور ترقیوں پر پابندی سمیت مختلف سزاؤں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
33









