امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کی بدترین صورتحال بڑھتی جارہی ہے عوام شاہراہیں مسافر،ٹراسپورٹرزسمیت تاجربھی غیرمحفوظ ہیں 90ارب سیکیورٹی بجٹ کھانے والے تماشاکررہے ہیں کسی بھی جگہ حکومتی رٹ نہیں ہے۔دہشت گرد اورشرپسند جب چاہے اور جہاں چاہیں کارروائی کرتے ہیں لیکن انہیں روکھنے والاکوئی نہیں
۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادرمیں وفودسے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیا۔قبل ازیں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ سے اورماڑہ کے معروف ماہیگیر رہنما ناخدا بنڈی کی قیادت میں ماہیگیروں کے ایک اعلی سطحی وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں اورماڑہ کے ماہیگیروں کو درپیش مسائل،ماہی گیری کے شعبے کی موجودہ صورتحال،روزگار کے مواقع،بنیادی سہولیات اور ساحلی آبادی کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔
وفد نے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کو اورماڑہ کے ماہیگیروں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندان مختلف مسائل کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ وفد نے ماہی گیروں کے روزگار، بنیادی سہولیات اور ساحلی علاقوں میں درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے وفد کے تحفظات اور تجاویز کو غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اورماڑہ سمیت ضلع گوادر کے ماہیگیروں کے حقوق کے تحفظ،ان کے مسائل کے حل اور ساحلی علاقوں کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ماہی گیر اس خطے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے مسائل کا حل حق دو تحریک کی ترجیحات میں شامل ہے۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے مزید کہا کہ ماہی گیری کے شعبے کو درپیش مشکلات، روزگار کے مواقع میں اضافے اور ساحلی آبادیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی، جبکہ ماہیگیر وفد نے اپنے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ دلچسپی لینے پر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی کاوشوں سے ماہیگیروں کے مسائل کے حل میں مثبت پیش رفت ہوگی۔









