21

ریکوڈک منصوبے میں یورپی سرمایہ کاری بینک کی دلچسپی

یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے اربوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک مائننگ منصوبے میں دلچسپی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرسکتاہے، تاہم اس کے بدلے یورپ کو اہم معدنی وسائل میں حصہ بھی ملناچاہیے۔

دوسری جانب وزارتِ توانائی کے ڈائریکٹر جنرل معدنیات ڈاکٹر نواز احمد ورک نے 6 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائرکے دعوے کو ”انتہائی مبالغہ آمیز “ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اعداد و شمارمستند تحقیقی بنیادوں پر نہیں، یہ باتیں انہوں نے یورپی یونین اور پاکستان بزنس فورم کے دوسرے روز منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے بتایاکہ ریکوڈک منصوبے کے ترقیاتی مرحلے میں سیلز ٹیکس اورودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر ٹھیکیداروں کوتحفظات ہیں،جبکہ حکومت پہلے ہی منصوبے کی آمدنی کوٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کوراغب کیاجا سکے۔

ڈاکٹرورک کے مطابق وزارتِ توانائی معاملے پر وزارتِ خزانہ سے مشاورت کر رہی ہے، امیدہے کہ پیداوار شروع ہونے تک ان ٹیکسزکومؤخرکردیاجائیگا۔

یورپی انویسٹمنٹ بینک کے نمائندے مارکو ایرینا نے کہاکہ یورپ کو اپنی گرین اور ڈیجیٹل معیشت کیلیے اہم معدنیات کی ضرورت ہے، اس لیے ریکوڈک جیسے منصوبوں سے مضبوط تعلق قائم کرناضروری ہے، انجینئرنگ کے مسائل نسبتاً آسان ہوتے ہیں جبکہ اصل چیلنجز پالیسی، ریگولیشن، استحکام اور کرنسی کے خطرات ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں