بلوچستان میں بجلی کا شارٹ فال صرف 75 میگاواٹ ہے، تاہم اعلانی اور غیر اعلانی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹوں تک محیط ہے۔
کیسکو انتظامیہ کے مطابق صوبے میں آنے والی بجلی کا تقریباً نصف حصہ چوری اور لائن لاسز کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ بجلی کے بلوں کی مد میں صارفین کے ذمہ اربوں روپے واجب الادا ہیں بلوچستان میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 84گرڈ اسٹیشنر اورتقریباآٹھ سو فیڈرز قائم ہیں ،جن سے ساڑے لاکھ صارفین کو بجلی فراہمی کی جاتی ہے صوبے کیلئے کیسکو کی اوسطا ڈیمانڈ 415میگاواٹ جبکہ سپلائی کا کوٹہ340 میگاواٹ ہے، کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ 75میگاواٹ کے شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے 4 گھنٹے تک اعلانی لوڈ شیڈنگ کی جا تی ہیلیکن سبی کے باسیوں کا کہنا ہے کہ وہاں بارہ سے چودہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کیسکو کے صارفین کے ذمہ مجموعی طور پر بقایا جات 762ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ،، جبکہ بجلی کا نظام پرانا ہونے کی وجہ سے صوبے میں آنے والی بجلی میں سے نصف چوری اور لائن لاسز کی نذر ہوجاتی ہے،کیسکو حکام کا دعوی ہے کہ کوئٹہ کے 139فیڈرز میں 75لوڈشیڈنگ فری ہیںاس لئے جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ اور واجبات کی ادائیگی کم ہے وہاں سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے برقی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کیسکو کو تقریبا 50 فیصد عملے کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اس ادارہ کو بجلی کی چوری روک تھام اور واجبات کی وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے اگر عملے کی کمی کے مسلے کو دور کیا جائے تو صوبے میں لوڈ شیڈنگ کا مسلہ بھی حل ہوسکتا ہے









