ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ صرف زمین اور فضا تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک ایسا اثر بھی ہے جو آپ کے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کی اسکرین تک پہنچ سکتا ہے، چاہے آپ اس خطے سے ہزاروں میل دور ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ اس وقت دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو جس بڑے خطرے کا سامنا ہے، وہ ہے زیرِ سمندر بچھے ہوئے ’کمیونیکیشن کیبلز‘ کا نیٹ ورک۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کا تقریباً 99 فیصد بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک سیٹلائٹ کے بجائے سمندر کی تہہ میں بچھی ہوئی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ اس وقت دنیا کی طویل فاصلے کی ڈیٹا ٹریفک کا ایک بڑا حصہ خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر یعنی ریڈ سی کے راستے سے گزرتا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو اس وقت براہِ راست جنگ کی زد میں ہیں۔ اگر یہ کیبلز سمندری بارودی سرنگوں، بحری جہازوں کے اینکرز یا جان بوجھ کر کی جانے والی تخریب کاری کا شکار ہوتی ہیں، تو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کو طویل اور زیادہ پیچیدہ راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب ہے انٹرنیٹ کی رفتار میں شدید کمی، ڈیٹا کی منتقلی میں تاخیر اور مشرقِ وسطیٰ سے بہت دور واقع ممالک میں بھی انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آؤٹ۔









