چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ غربت ہی. ایسے میں بلوچستان میں آٹے کی قلت پیدا ہوجانا غریب اور محنت کش طبقے کیلیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہی. بلوچستان میں گندم کی قلت کی وجہ سے بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2500 روپے سے تجاوز کر جانا غریبوں کیلیے تکلیف کا باعث ہی.
بجائے اسکے کہ حکومت آٹے کی قیمت میں کمی کروا کر پسی ہوئی عوام کو ریلیف فراہم کرتی حکومت قیمت کو بڑھنے سے بھی نہ روک سکی. ضلعی اور تحصیل انتظامیہ اشیا خورد و نوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں مکمل طور ناکام ہی. چیرمین قایمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ آٹے کا بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔
کوئٹہ میں دو ہفتے کے دوران آٹے کے قیمت میں تیس روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے جس کے بعد 20 کلو آٹے کی قیمت 2550 روپے تک جاپہنچی ہی.
شہر بھر کے پرچون فروشوں کو فلور ملز سے مہنگے داموں آٹا مل رہا ہے اس لئے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہی. پنجاب اور سندھ سے گندم کی ترسیل پر پابندی ہی. بلوچستان کے پاس گندم کے ذخیرے کی کمی کی وجہ سے بحرانی صورتحال پیدا ہوئی ہی. اس بد انتظامی کے ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر کاروائی کی جائے تاکہ عوام مشکلات سے بچ سکیں









