جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق اور سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس نے مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کو پریشانیوں کے گرداب سے نکالنے کے لیے جمعیت کے امیدوراوں کی جیت ناگزیر ہے۔ موجودہ ناگفتہ بہ حالات اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ گزشتہ ادوار میں شہر کو صرف نظرانداز کیا گیا، خدمت نہیں کی گئی۔
گندگی، ٹوٹی سڑکیں، پانی و گیس کا بحران، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور انتظامی بے حسی نے شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئٹہ کے مسائل کے حل کے لیے جمعیت علمائ اسلام کے امیدواروں کی کامیابی ناگزیر ہے، کیونکہ اس وقت شہر کو نعروں یا کاغذی وعدوں نہیں بلکہ ذمہ داری، دیانت اور عملی کارکردگی والی قیادت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ برسوں سے شہر کو خراب کرتے آئے، اب وہی اصلاح کے دعوے کررہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں عوام کے دکھ، تکلیف یا مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔انہوں نے کارکنوں اور شہریوں سے اپیل کی کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں صرف وہی قیادت چنی جائے جو کوئٹہ کے ہر محلے، ہر گلی، اور ہر گھر کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے۔ کوئٹہ کو بچانے اور بدلنے کا واحد راستہ جمعیت علمائ اسلام کے امیدواروں کی کامیابی ہے، اس کے بغیر حالات مزید خراب ہوں گے۔









