109

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ اربن واٹر سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ اربن واٹر سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کوئٹہ میں پانی کی قلت، زیر زمین پانی کے تیزی سے ختم ہوتے ذخائر اور صاف پانی کی فراہمی سے متعلقہ مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ڈوپلیمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد،چیف انجینئر واسا محمد رمضان، اسسٹنٹ پروفیسر بیوٹمز ڈاکٹر مصادر الرحمن کے علاہ پی سی آرڈبلیو آر ،محکمہ ایریگیشن ،محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

اجلاس میں اربن واٹر سیکیورٹی پالیسی کے مختلف پہلوں، سفارشات اور مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اس موقع پر کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ اختیار کر چکی ہے اور اس حوالے سے ایمرجنسی نافذ ہے، لہذا ضروری ہے کہ صاف پانی کے بے دریغ استعمال کو روکا جائے اور ہر سطح پر مثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ واٹر سیکیورٹی پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائے تاکہ اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم دونوں پالیسیوں پر بیک وقت عمل ضروری ہے۔کمشنر کوئٹہ نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیمز کی گنجائش میں اضافے اور نئے ریچارج پوائنٹس کے قیام پر فوری توجہ دی جائے، کیونکہ ریچارج پوائنٹس کے بغیر ڈیمز اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں میں کمی کے باعث پانی کی قلت مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

اجلاس میں تین فیزز پر مشتمل منصوبہ بندی پیش کی گئی جس میں فیز ون میں کار واش سینٹرز اور غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کارروائی، انہیں قانونی دائرے میں لانے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات اٹھانے ،فیز ٹو میں ڈیلے ڈیمز، پائپ لائننگ، واٹر مینجمنٹ اور ریچارج پوائنٹس کی تعمیر جبکہ فیز تھری میں ریچارج پوائنٹس اور زونز کی بہتری کے اقدامات کے حوالے سے تجاویز پر غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس سے کمشنر نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر سے سیلابی پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف ریچارج پوائنٹس فعال ہوں گے بلکہ زیر زمین پانی کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی۔اجلاس میں پانی کے ریسائیکل سسٹم اور زراعت کے لیے ٹریٹڈ واٹر کے استعمال کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔جبکہ شہر میں 100 کے قریب چھوٹے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کی تجویز بھی پیش کی گئی۔کمشنر نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات اور تجاویز کو حتمی شکل دے کر رپورٹ کی صورت میں جمع کرائیں تاکہ اربن واٹر سیکیورٹی پالیسی کو کابینہ میں پیش کر کے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں