پہلی ششماہی : ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز ریلیز سٹرٹیجی کے مطابق رقم مختص نہ ہوسکی

88

حکومت پہلی ششماہی کے دوران فنڈز ریلیز سٹرٹیجی کیمطابق 35 فیصد ترقیاتی فنڈز مختص نہ کر سکی،حکومت نے اکتوبر سے دسمبر تک ترقیاتی منصوبوں کے لیے 175 ارب روپے مختص کیے ہیں جو کہ فنڈز ریلیز سٹر ٹیجی سے کم ہیں۔ دستاویز کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلی سہ ماہی جولائی سے ستمبر میں 15 فیصد اور دوسری سہ ماہی اکتوبر سے دسمبر میں 20 فیصد ترقیاتی فنڈز جاری کرنے ہیں۔ پہلی ششماہی کے لیے مجموعی طور پر 35 فیصد سے کم پی ایس ڈی پی اتھارائزیشن کی گئی۔ جولائی سے دسمبر 330 ارب روپے خرچ کرنے کے لیے اتھارائزیشن کی گئی ۔ 35 فیصد فنڈز ریلیز سٹرٹیجی کے مطابق 1 ہزار ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے تقریباً 350 ارب روپے مختص کیے جانا تھے ۔ ذرائع کے مطابق سیلاب نقصانات اور ریونیو آمدن کم ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کم مختص کیے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق جولائی سے دسمبر تک 36 وزارتوں/ڈویژنز کے لیے 219 ارب روپے ، این ایچ اے اور پاور ڈویژن (این ٹی ڈی سی/پیپکو) کے لیے 111 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پہلی ششماہی کے دوران مختص شدہ ترقیاتی فنڈز کے اخراجات کو یقینی بنائیں اور فنڈز ریلیز سٹرٹیجی کے مطابق دسمبر تک اخراجات پر رپورٹ بھی فراہم کریں۔دستاویز کے مطابق تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو جاری منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں پر فنڈز مختص کرنے کے لیے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ اور فنڈز ریلیز سٹرٹیجی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے ۔

جولائی سے دسمبر کے دوران وزارتوں،ڈویژنز میں سب سے زیادہ صوبوں اور سپیشل ایریاز کے منصوبوں کے لیے 68 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ واٹر ریسورسز ڈویژن کے لیے 45 ارب ، سرمایہ کاری بورڈ کے لیے 24 ارب ، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 4 ارب 16 کروڑ ، وفاقی وزارتِ تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 6 ارب ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 15 ارب 74 کروڑ ، ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 1 ارب 85 کروڑ ، انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹ کے لیے 2 ارب ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے لیے 5 ارب 67 کروڑ ، وزارتِ داخلہ کے لیے 6 ارب 46 کروڑ ، میری ٹائم افیئرز کے لیے سوا ارب، نیشنل فوڈ سکیورٹی کے لیے ڈیڑھ ارب ، نیشنل ہیلتھ سروسز کے لیے 5 ارب ، پلاننگ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 8 ارب 14 کروڑ ، ریلوے ڈویژن کے لیے 7 ارب 84 کروڑ ، ریونیو ڈویژن کے لیے 4 ارب ، ایس آئی ایف سی ڈویژن کے لیے 17 کروڑ اور سپارکو کے لیے 1 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو دسمبر تک خرچ کرنا ہوں گے ۔وزارتوں اور ڈویژنز کو رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے لیے ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے سے قبل جولائی سے دسمبر کے دوران ترقیاتی فنڈز کے اخراجات یقینی بنانا اور رپورٹ دینا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں