کیو آئی ایم ایس میں غریب طلبہ کی 45 رعایتی ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس نشستیں بند، پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا فوری بحالی کا مطالبہ

33

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان، صوبائی سینئر معاون سیکرٹری ایمل ساروان اور دیگر ایگزیکٹیوز کے اراکین نے کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (QIMS) میں غریب اور مستحق طلبہ کے لیے مختص رعایتی ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس نشستوں کی اچانک بندش پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان نشستوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور ادارے کے زیرِ التوا واجبات ترجیحی بنیادوں پر ادا کیے جائیں۔

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ طبی تعلیم ہر مستحق طالب علم کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

بدقسمتی سے کیو آئی ایم ایس میں رعایتی نشستوں کی اچانک بندش نے صوبے کے ان غریب اور مستحق طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جو مالی مشکلات کے باوجود ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق اصل معاہدے کے تحت کیو آئی ایم ایس میں مجموعی طور پر 45 رعایتی نشستیں مختص کی گئی تھیں، جن میں ہر ڈویژن کے لیے چار ایم بی بی ایس اور ایک بی ڈی ایس کی نشست شامل تھی۔ اس پالیسی کے تحت ایسے طلبہ کو طبی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا جن کے خاندان کی ماہانہ آمدن 80 ہزار روپے سے کم ہے۔ اس نظام میں صوبائی حکومت سالانہ ٹیوشن فیس کا 80 فیصد ادا کرتی ہے، جبکہ طلبہ صرف 20 فیصد فیس ادا کرتے ہیں۔

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کہا کہ NUMS MDCAT 2026 کے امتحان سے قبل ان نشستوں کی بندش کے حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، جو طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے متعلق ایک نہایت اہم معاملے میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اس اچانک فیصلے سے مستحق طلبہ شدید بے یقینی اور مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ داخلوں کی آخری تاریخ قریب آنے کی صورت میں ان کے لیے متبادل انتظام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

تنظیم نے مزید کہا کہ کیو آئی ایم ایس کی انتظامیہ سے رابطے کے دوران متعلقہ افسر نے واضح کیا کہ رعایتی نشستیں اپنی مرضی سے بند نہیں کی گئیں، بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز اور واجبات بروقت ادا نہ کیے جانے کے باعث یہ اقدام کرنا پڑا۔ انتظامیہ کے مطابق اگر صوبائی حکومت زیرِ التوا واجبات ادا کر دے تو رعایتی نشستیں فوری طور پر بحال کی جا سکتی ہیں۔

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کہا کہ اگر رعایتی نشستوں کی بندش کی وجہ واقعی حکومتی واجبات کی عدم ادائیگی ہے تو اس انتظامی اور مالی مسئلے کی سزا غریب طلبہ کو دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان مالی معاملات کے حل کی ذمہ داری حکومتی حکام اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ ان طلبہ پر جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

تنظیم نے واضح کیا کہ صوبے کے غریب طلبہ کے لیے طبی تعلیم کے دروازے بند کرنا ان کے بنیادی تعلیمی حقوق اور مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ طبی شعبے میں مستحق نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تعلیم کے لیے مالی معاونت نہ صرف سماجی انصاف کا تقاضا ہے بلکہ صوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اور مستقبل میں قابل ڈاکٹرز کی تیاری کے لیے بھی ضروری ہے۔

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے صوبائی وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی، وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ، محکمہ صحت، محکمہ خزانہ اور کیو آئی ایم ایس کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ادارے کے تمام زیرِ التوا واجبات فوری طور پر جاری کیے جائیں، تمام 45 رعایتی ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس نشستیں داخلوں کی آخری تاریخ سے قبل بحال کی جائیں اور طلبہ کو اس فیصلے کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔تنظیم نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ غریب اور مستحق طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مالی و انتظامی مسائل کی بنیاد پر کسی بھی طالب علم کو طبی تعلیم کے حصول سے محروم نہ کیا جائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں