میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی کی زیر صدارت ڈینگی وائرس کی موجودہ صورت حال، فوگنگ اور اسپرے مہم کی پیش رفت سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف رند، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی، چیف آفیسر شعیب ناصر، کونسلر حاجی اسلم سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ضلع کیچ، خصوصاً شاہی تمپ میں ڈینگی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مارچ کے دوران 160 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اپریل کے آغاز سے اب تک یہ تعداد بڑھ کر 436 تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے پچاس فیصد سے زائد کیسز صرف شاہی تمپ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ سٹی اور سنگانی سر کے علاقوں میں بھی کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ دیگر علاقوں سے بھی اکا دکا کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
حکام کے مطابق شاہی تمپ میں ایک ہفتے تک لاروا سلائیڈنگ مہم جاری رہی، جبکہ کوئٹہ سے آنے والی خصوصی ٹیم نے سروے کے دوران ایک گھر کے مشترکہ واش روم میں پانی سے بھرے 13 برتنوں میں سے 10 میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کی نشاندہی کی، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز کی 40 ٹیموں نے 8 ہزار 888 مقامات کا معائنہ کیا جہاں 697 لاروا پائے گئے۔
اسی طرح پانی کے 92 ہزار سے زائد ذخائر کی جانچ کے دوران 1 ہزار 366 لاروا کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے 833 کو تلف کیا گیا جبکہ 288 مقامات پر آئی جی آر استعمال کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مقامی سطح پر آئی جی آر کی خریداری پر پابندی کے باعث مزید سپلائی کے لیے محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت (WHO) سے درخواست کی گئی ہے۔ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے اجلاس کو بتایا کہ روزانہ 100 سے زائد ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ مثبت کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ڈینگی مریضوں کے لیے خصوصی آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم بروقت تشخیص، عام ادویات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر تربت بلخ شیر قاضی نے شاہی تمپ کو ہاٹ اسپاٹ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ پانچ روز تک اس علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے فوگنگ کے لیے پانچ نئی مشینیں آرڈر کی گئی ہیں جو جلد دستیاب ہوں گی، جس سے مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ میئر نے محکمہ صحت، میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون سے جامع حکمت عملی کے تحت اسپرے، فوگنگ، لاروا سرویلنس اور آگاہی مہم کو تیز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی تعاون کے بغیر ڈینگی پر قابو پانا ممکن نہیں، لہٰذا شہری احتیاطی تدابیر اپنائیں اور پانی کے ذخائر کو ڈھانپ کر رکھیں۔
اجلاس میں گرین شیڈز کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے، کیونکہ گزشتہ سال گرین شیڈز کے استعمال سے ڈینگی کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی آئی تھی۔ مزید برآں میئر تربت نے بتایا کہ ڈینگی ویکسین کے حصول کے لیے جنیوا میں قائم ایک بین الاقوامی ادارے سے رابطہ جاری ہے، تاہم اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کو باضابطہ درخواست دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گاوی (GAVI) جیسے عالمی اداروں سے تعاون حاصل ہو جائے تو صورتحال پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔









