آئین اور بااعتماد انتخابات کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا،لیاقت بلوچ کی اہم سیاسی ملاقاتیں

26

نائب امیر جماعتِ اسلامی، قائمہ کمیٹی سیاسی اُمور کے صدر لیاقت بلوچ کی اسلام اباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بُگٹی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزراء اسد عمر، فواد چوہدری، دانیال عزیز، ندیم افضل چن، خرم دستگیر اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات ہوئی، ہے ملاقاتوں میں ملکی حالات اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی صوبائی حکومت کا عارضی خاتمہ اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ پر تبادلہ خیال ہوا۔

لیاقت بلوچ نے صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے قومی سیمینار ڈائیلاگ سے خطاب اورصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بات کرنا اور مطالبہ کرنا آئین اور جہوریت سے متصادم نہیں، اصل معاملہ آئین کی حدود اور سمت کو تسلیم نہ کرنا ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز آئین کے پابند بنیں، عدلیہ کی آزادی کے اُصول کو تسلیم کریں، بااعتماد انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کا جمہوری ذہن پیدا کریں اور صوبوں کے حقوق، حقِ ملکیت کا آئینی اُصول نہ توڑا جائے۔

لیاقت بلوچ نے میر سرفراز بُگٹی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے معاملات الگ تو ہیں لیکن قومی سیاسی جمہوری قیادت بلوچستان سے اپنے آپ کو لاتعلق نہ رکھے،وزیراعظم عوام کو معاشی ریلیف دینے کیلئے آئی پی پیز کا عذاب اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھتہ کا خاتمہ کریں، بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں قومی کانفرنس بلائیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد میں تاخیر اپوزیشن کو مزید کمزور کررہی ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ 1958ء کے بعد سے پاکستان مسلسل تجربات کی بھٹی پر چڑھایا ہوا ہے، فوجی، سیاسی، جمہوری قیادت، فارم 47 یا فارم 45 والے آئین کی حدود کی پابندی نہیں کرتے، خوشنما دعوؤں سے عوام سے دھوکہ بازی کا دھندہ جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مسلسل خطِ غربت سے نیچے گِرتے چلے جارہے ہیں؛ مہنگائی، بیروزگاری، پیداواری لاگت کا ناقابلِ برداشت ہونا، کرپشن کا سرطان اور سرکای محکموں کا انسانوں سے حیوانوں والا سلوک سماجی، معاشرتی تباہی لارہا ہے، عوام پاکستان سے گہری محبت رکھنے کے باوجود مستقبل سے مایوس ہورہے ہیں۔

ملک پر فوجی طاقت، آئین سے ماورا ہائبرڈ نظام، انتخابات پر ڈاکہ زنی سے غیرنمائندہ جعلی اکثریت کا فارمولا یکسر ناکام اور نظام کی تباہی کا باعث بن گیا ہے،سِول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ قومی سیاسی، جمہوری، دینی قیادت ہوش کے ناخن لے، قومی ڈائیلاگ، قومی ترجیحات اور متفقہ لائحہ عمل بنانے کے بعد آئین، عدلیہ، جمہوریت اور عوامی حقوق کی بحالی کیلئے اپنے اپنے پلیٹ فارم سے جدوجہد کریں، اقتدار کے حصول کی ہوًس میں مبتلا قوتیں اب آلہ کاری اور سہولت کاری سے انکار کردیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں