پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ خطے کے بحرانی حالات پر قابو نہ پایا گیا اور اگر جنگ ہوئی تو پاکستان اور بلوچستان کہیں نظر نہیں آئے گا ملک کے کشیدہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئین کی پاسداری کریں پارلیمنٹ کو با اختیار بناکر مسائل کے حل کو یقینی بنایا بند بارڈروں کو تجارت کے لئے کھول کر لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے گولی سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بگڑتے ہیں۔
ہمیں بات چیت سے معاملات کو بہتر بناکر آگے بڑھنا ہوگابلوچ اور پشتون متحد ہوکر برابری کی بنیاد پر بلوچستان کی حالت زار کو بدل سکتے ہیں ایجنسیوں کا حکومت بنانا اور گرانا نہیں بلکہ قانون پر عملدرآمد کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، نواب ایاز خان جوگیزئی، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، سردار شفیق احمن ترین، سید لیاقت آغا، عبدالرؤف لالا، عبدالقہار خان ودان، کبیر افغان، چیئرمین حبیب اللہ بازئی، عصمت اللہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ صوبے میں حالات اچھے نہیں ہیں پاکستان اور سارا خطہ بحران میں گھرا ہوا ہے۔
پاکستان کا بحران بیرونی سے زیادہ اندرونی ہے عوام کے حقوق کے لئے جو کچھ ہورہاہے سب کو معلوم ہے میں نے اس مٹی سے وفا اور محبت کی ہے جن ہم وطن کی بات کرتے ہیں تو لوگ کیاکیا بات کرتے ہیں پاکستان 5 اقوام کا مشترکہ ملک ہے معلوم ہے کہ اس ملک کو کس طرح چلانا چاہتے ہیں اس لئے ہمیں آپس کی کدورتوں کو ختم کرتے ہوئے متحد ہوکر ملک اور قوم کی سلامتی کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں کا کام حکومتیں گرانا اور بنانا نہیں بلکہ آئین کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے تمام اداروں کو اپنی حدود و قیود میں رہ کر پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بناتے ہوئے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کرنا ہے۔اور تمام قومیتوں کو ان کے وسائل پر دسترس دیتے ہوئے حقوق کی فراہمی تسلیم کی جائے تاکہ ان میں پائی جانے والی بد گمانی دور ہوسکے۔
اس لئے ہر انسان اپنے وطن اور وسائل پر حق حکمرانی چاہتاہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے پر کاٹے گئے،پریس پر پابندی لگائی گئی، انسانی حقوق معطل ہے جو نیک شکون نہیں جس طرح 2024 کے الیکشن میں اسمبلیوں کا نیلام ہواوہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے ان حالات میں اور لوگوں کی باہمی رضا مندی کے بغیر نئے ضلعے اور ڈویژن بنانے کی کیا ضرورت ہے بلوچ پشتون دونوں بھائی ہیں نا انصافی سے کدورتیں بڑھتی ہیں اس لئے ہم دونوں ملکر برابری کی بنیاد پر بلوچستان کی پسماندگی کو دور کرتے ہوئے عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو ختم کرکے بلوچستان کو امن کا گہوارا بناکر ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک ماڈل بناسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح چمن بارڈر سے تجارت کرنے پر پابندی لگائی گئی گاڑیوں کو کون آگ لگاتاہے حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کاکام ہے کہ وہ ان غیر قانونی وارداتوں کا سراغ لگائے اگر حکومت اور اداروں نے کام نہیں کرنا تو مظلوم کی داد رسی کون کرے گا۔
ا گر سرکار کام نہیں کرسکتی جن پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو ہمیں کروڑوں روپے اور اختیار دے تو ہم سڑکوں پر کنٹرول کریں گے قتل غارت گری کون کرتاہے اس عنصر کو سامنے لانا ہوگا کیونکہ ان واقعات کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کی طرف جارہاہے ملک کو چلانا ہے کہ تو ہر علاقے کے لوگوں کو ان کے وسائل پر اختیار دیاجائے ملک اندرونی طور پر مشکل میں ہے پاکستان اچھا کورئیر ہے پانچ بڑی طاقتیں بیٹھ کر ایران کا مسئلہ حل کرے تو بہتر ہوگا اگر ہمارا خطہ میدان جنگ بن گیاتو کچھ نہیں بچے گاپاکستان اور افغانستان کی سالمیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے طاقتور قوتیں اسمبلیوں کو چلنے دیں یہ ہمارا ملک ہے۔
اسکو بچاناہے آئی ایم ایف کے فنڈز کہاں خرچ ہوئے ہیں اس کا لوگوں کو علم ہونا چاہئے ایک کے علاقے کو چھیڑنا نہیں چاہیے جب چاہیں بلوچستان کو بند کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات پر پابندی ہے جتنا اسے بند رکھیں گے حالات خراب ہوں گے ماننس عمران کوئی قبول نہیں کرے گا۔ بلوچستان کی بحرانی کیفیت اور سلگتے ہوئے حالات میں عوام کی داد رسی نہیں ہورہی اور نہ ہی انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔
بے روزگاری، بد امنی اور سنگینی حالات عروج پر ہے جس میں نوکریاں بک رہی ہیں ہم ان حالات میں خاموش نہیں رہ سکتے اگر ایسا کیا تو بہت بڑی بربادی کا باعث ہوگا اگر کوئی منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کرتاہے تو اسے گولی مار دو اگر کوئی گھی کا ڈبہ لاتالے جاتاہے تو اسے اپنا پیٹ پالنے کے لئے کچھ مت کہیں۔
اگر بارڈر نہ کھولا گیا تو ہم سب سے کہیں گے قومی شاہراہیں بند کردیں پاکستان اتنا کمزور نہیں کی کہ وہ امن وامان کو قائم نہ کرسکے جس سسٹم میں طاقت ہے اسے چلنے نہیں جارہاہے اگر ادارے چاہیں تو کہیں ڈکیتی نہیں ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 28ترمیم کی کیا ضرورت ہے ہم کو تجارت کرنے کی اجازت دیں ہم ملک کو بہتر طور پر انداز میں چلا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جس طرح پاکستان میں آئین موجود ہے بنیادی اختلاف کے باوجود ہم نے اس آئین کو ماناہماری افواج سے بھی بڑی فوجیں دنیا میں موجود ہیں امریکہ اور فرانس سمیت دنیا میں افواج حکومتوں کے ماتحت کام کرتی ہیں سوویت یونین میں طاقت سے چلانے کا تجربہ کیا گیا۔
جسکے نتیجے وہ ٹوٹ گیاپاکستان میں حکمرانی کا حق عوام کاہے۔ آئے روز ٹرانسپورٹروں کے مال بردار ٹرکوں کو جلایا جاتا ہے جب کوئی عام آدمی شکایت لیکر متعلقہ حکام کے دفاتر میں جاتا ہے وہاں پر موجود ڈی سی اور آفیسر پیسٹریاں کھارہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کی داد رسی کوئی نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کو کوئی نہیں جلا رہا تو کیا جنات گاڑیاں جلاتے ہیں اس لئے میں اپنے بلوچ بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ آئیں مشترکہ لائحہ عمل بناکر بلوچستان کو امن کا گہوارہ اور خوشحال بنائیں۔اس لئے میری اپنی افواج اور ایجنسیوں سے درخواست ہے کہ پارلیمنٹ کیلئے اپنے نمائندوں کا انتخاب عوام پر چھوڑ د یں۔
عوام کو حق دیا جائے کہ وہ جسکو بھی چاہے منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجے انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں ڈاکٹر مالک بلوچ کو کس نے ہرا یا وہ کھل کربتائیں پاکستان کو کھربوں ڈالر کا مقروض کیا گیا ہمارے علاقوں میں کتنا خرچ ہوااگر ہم آج یہ اعلان کریں بیرونی قرضے کا صرف وہ حصہ دیں گے جو ہمارے علاقے میں خرچ کیا گیا تو فوراً غدار قرار دے دیا جائے گا۔









