رکن مرکزی مجلس عمومی جمعیت علماء اسلام پاکستان اور قبائلی رہنما میر حشمت لہڑی نے کہا ہے کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی بینک نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 115 ارب روپے فراہم کیے، لیکن 4 سال گزرنے کے باوجود اس رقم کا کوئی اتا پتا نہیں۔ جعفرآباد، نصیرآباد، لسبیلہ، بولان اور قلات سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں ہزاروں خاندان آج بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی بینک سے موصول 115 ارب روپے کی مکمل تفصیل قوم کے سامنے لائی جائے اور متاثرین کو فوری گھر، صاف پانی اور زرعی امداد فراہم کی جائے۔ میر حشمت لہڑی نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام سیلاب متاثرین کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی، جبکہ عالمی بینک بلوچستان حکومت سے رقم کا حساب لے کر اپنی نگرانی میں متاثرین کی بحالی یقینی بنائے۔
سیلاب متاثرین کیلئے عالمی بینک کے 115 ارب روپے کہاں گئے، حشمت لہڑی
26









