عمران کو جو آج ملا وہ مہینوں سے زیر بحث تھا

25

بانی پی ٹی آئی پاکستان سے باہر نہیں جا رہے، اسلام آباد کے اسپتال میں سیکورٹی اور حفاظت میں رہیں گے۔ سیاسی رعایت کہیں یا اعتماد سازی کا اقدام، منگل کے روز پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ سے جو کچھ ملا، وہ ایسا کچھ نہیں تھا جو اچانک سامنے آیا ہو۔ عمران خان کو علاج کیلئے نجی اسپتال جانے کی اجازت دینے، بہنوں اور خاندان کے افراد سے ملاقاتیں کرانے اور ایسی شرائط وضع کرنے کا امکان کہ یہ ملاقاتیں سیاسی یا میڈیا سرگرمی میں تبدیل نہ ہوں، گزشتہ کئی ماہ سے پی ٹی آئی کے نمائندوں اور متعلقہ حکام کے درمیان زیر بحث تھا۔ اب سپریم کورٹ نے ان معاملات کو ایک عدالتی فریم ورک دے دیا ہے جو ان مذاکرات کا حصہ رہے تھے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس پیش رفت کا موازنہ 2019ء کے اس واقعے سے نہیں کیا جانا چاہئے جب سابق وزیراعظم نواز شریف کو بالآخر طبی علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ عمران خان کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ نے انہیں سکیورٹی کے تحت اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، جہاں ایک میڈیکل بورڈ ان کے علاج کی نگرانی کرے گا جبکہ ان کے ذاتی معالج اور بہن کو بھی ان تک رسائی حاصل ہوگی۔ لہٰذا، یہ حکم پاکستان میں علاج اور خاندان تک محدود رسائی سے متعلق ہے، نہ کہ کسی قید سیاسی رہنما کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق۔ یہ معاملات کئی ماہ سے زیر غور تھے۔ دی نیوز کی رپورٹنگ ایک ایسی ٹائم لائن پیش کرتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کی پیش رفت سے پہلے انہی معاملات پر کئی ماہ تک بات چیت اور اختلافات جاری رہے۔ سب سے اہم خبر مئی 2026ء میں ’’نقوی، گوہر، سہیل کی خفیہ ملاقات میں عمران تک رسائی، سیاسی کشیدگی میں کمی پر توجہ‘‘کی سرخی کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وزیر داخلہ محسن نقوی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی رہنماؤں تک رسائی بہتر بنانے کے علاوہ طبی اور انسانی ہمدردی سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ لیکن، رپورٹ میں ایک اور اہم تفصیل بھی سامنے آئی۔ ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ علیمہ خان کے سوشل میڈیا بیان نے عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کے امکان کو شدید متاثر کیا تھا۔ اسی ماہ ایک اور خبر میں دی نیوز نے ’’بشریٰ خاندان کی جانب سے سیاسی سرگرمی نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد ریلیف‘‘ کی سرخی سے خبر شائع ہوئی تھی کہ خاندانی ملاقاتوں کو ممکن بنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، جبکہ سیاسی سرگرمی نہ کرنے اور ایسی ملاقاتوں کے بارے میں عوامی بیانات نہ دینے کی یقین دہانیاں بھی ان مذاکرات کا حصہ تھیں۔ چنانچہ عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا معاملہ منگل کے سپریم کورٹ کے حکم سے بہت پہلے زیر غور آ چکا تھا۔ 21؍ مئی کو دی نیوز میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ ’’ایک اور ممکنہ اہم اقدام، حکام عمران خان اور ان کی ایک بہن نورین خانم کے درمیان ملاقات آسان بنانے پر غور کر رہے ہیں، جن کی ان تک رسائی حالیہ مہینوں میں محدود رہی ہے۔ اسی طرح ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی بیٹیوں کو آنے والے دنوں میں اپنی والدہ سے ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے۔‘‘ لہٰذا خاندان کی رسائی ایسا معاملہ نہیں تھا جسے سپریم کورٹ نے آج اچانک اٹھایا ہو۔ یہ پہلے ہی پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کا حصہ بن چکا تھا۔ فروری میں شائع ہونے والی خبریں بنیادی تنازع کی وضاحت کرتی ہیں۔ 14؍ فروری کو دی نیوز نے ’’معاہدے کی قیاس آرائیوں کے درمیان عمران کے اگلے اقدام کے بارے میں غیر یقینی صورتحال‘‘کی سرخی سے خبر دی تھی کہ عمران خان کو خاندان کے افراد، پی ٹی آئی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقاتوں سے اس لیے محروم رکھا گیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر ان ملاقاتوں کو سیاسی پیغامات پہنچانے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا جو بعد میں میڈیا یا سوشل میڈیا کے ذریعے نشر کر دیے جاتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت حاصل کرنے والے رشتہ داروں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ سیاسی گفتگو سے گریز کریں گے اور ملاقات کے بعد میڈیا سے بات نہیں کریں گے۔ 7؍ فروری کو دی نیوز کی رپورٹ ’’بشریٰ، خاندان کو سخت ’نو پولیٹکس‘ شرط کے تحت ملاقات کی اجازت‘‘ میں حکام کے اس اصرار کی تفصیل بیان کی گئی تھی کہ خاندانی ملاقاتوں کو سیاسی گفتگو یا سیاسی پیغامات کی ترسیل کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ منگل کے سپریم کورٹ کے حکم میں بھی سیاست اور میڈیا سے متعلق یہی شرط شامل ہے۔ طبی معاملہ بھی نیا نہیں تھا۔ نجی اسپتال میں علاج کا مطالبہ بھی کئی ماہ سے کیا جا رہا تھا۔ یکم مارچ کو دی نیوز کی خبر ’’چیف جسٹس نے پی ٹی آئی چیئرمین سے کیا کہا‘‘ میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کو اسلام آباد میں اپنی پسند کے اسپتال منتقل کرنے کے ساتھ ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں عمران خان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی نے انہیں شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور ان کے اپنے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی درخواست کی۔ یوں طبی معاملہ خاندانی رسائی کے تنازع کے ساتھ آگے بڑھتا رہا نہ کہ منگل کی کارروائی کے دوران اچانک سامنے آیا۔ منگل کے حکم کی سیاسی تشریح پر یقیناً خاصی بحث ہوگی، خصوصاً اس لیے کہ پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان پسِ پردہ رابطے بھی رہے ہیں۔ اگرچہ لوگوں نے ممکنہ ڈیل کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع کر دی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے ہی یہ معاملات زیر بحث تھے۔ حکام خاندانی رسائی پر غور کر رہے تھے، پی ٹی آئی اس کا مطالبہ کر رہی تھی، طبی معاملہ قانونی اور سیاسی ذرائع سے آگے بڑھایا جا رہا تھا اور سیاسی بیانات سے گریز کی یقین دہانی کا سوال بھی پس پردہ رابطوں کے دوران سامنے آ چکا تھا۔ دریں اثناء ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کو بیرون ملک نہیں بھیجا جا رہا۔ وہ پاکستان ہی میں رہیں گے، وہ اپنی قید سے جڑے سیکورٹی اور حفاظتی انتظامات کے تحت رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں