22

تربت: تعلیمی بحران سنگین، بند اسکول اور درسی کتب کی عدم فراہمی سے طلبہ متاثر

ضلع کیچ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے باوجود تعلیمی نظام بدانتظامی کا شکار دکھائی دے رہا ہے، جہاں بیشتر سرکاری اسکولوں میں تاحال درسی کتب کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی جبکہ تحصیل دشت کے کئی اسکول بدستور بند پڑے ہیں۔

اس صورتحال نے طلبہ، والدین اور عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق تحصیل دشت کے کئی علاقوں دشت، وشدی بل اور گردونواح میں متعدد اسکول ابھی تک فعال نہیں ہو سکے ہیں،

جس کے باعث طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ کئی اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے جبکہ بعض تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے سال کے آغاز کو کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود بیشتر اسکولوں میں درسی کتابیں فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث طلبہ مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

والدین نے کہا کہ کتابوں کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی پڑھائی کا تسلسل ٹوٹ رہا ہے، جو ایک سنگین تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران اسکولوں کے دورے نہیں کرتے اور نہ ہی زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں نے اساتذہ کی تعیناتی اور حاضری کے نظام میں مبینہ لین دین (کرپشن) کی نشاندہی بھی کی،

جس کی وجہ سے تعلیمی معیار مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

عوامی حلقوں اور شہریوں نے حکومت بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، بند اسکولوں کو فعال کیا جائے، اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے اور تمام اسکولوں میں درسی کتب کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ ضلع کیچ میں تعلیمی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، ایسے میں بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی نے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں