امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے اور امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے امکانات مسترد کردیے تاہم امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون ایران کی توانائی تنصیبات اور جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے طاقتور ترین غیر جوہری بم کے ممکنہ استعمال سمیت نئے حملوں کے منصوبوں پر غور کرچکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہی وہاں امریکی فوجی دستے بھیجنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔
نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اس حوالے سے روس اور چین کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کے سب سے بڑے غیر جوہری بم کے استعمال کا امکان بھی زیر غور بتایا گیا تھا۔









