بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے شفاف انتخابات اور اعتماد سازی ناگزیر ہیں، مولانا عبدالواسع

12

امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بنیادی مسائل آج اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جن امور پر دس سال قبل مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل تلاش کیا جاسکتا تھا، آج ان پر گفتگو کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے، اور جن نکات پر آج بات ممکن ہے، خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں وہ مواقع بھی میسر نہ رہیں۔

لہذا صوبے پر نت نئے سیاسی و انتظامی تجربات مسلط کرنے کے بجائے تمام سنجیدہ سیاسی قوتوں کو سر جوڑ کر ایک مستقل، پائیدار اور عوامی امنگوں کے مطابق حل تلاش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے کا واحد راستہ اعتماد سازی ہے، اور اعتماد سازی کا پہلا اور بنیادی تقاضا عوامی رائے کا احترام اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔

بدقسمتی سے سیاسی سودے بازیوں اور عوامی مینڈیٹ کی پامالی نے صوبے کو عدم استحکام، بے یقینی اور بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ دن دہاڑے عوامی فیصلے اور ووٹ کی توہین کرنے والے کردار تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہو چکے ہیں۔سینیٹر عبدالواسع نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ پارلیمان بلوچستان کے مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں رکھتی، ایک خطرناک اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عوام کو حقیقی نمائندگی سے محروم رکھ کر انہی قوتوں کے مقف کو تقویت دی گئی ہے جو پارلیمانی اداروں کو کمزور اور غیر مثر ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جائے اور عوامی مینڈیٹ کو اس کے اصل حقداروں کو واپس کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔

حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ سرکاری افسران اور اعلی عہدیدار بھی شاہراہوں پر بلا خوف سفر کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر سنگین واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ پہاڑوں کی جنگ اب بازاروں تک پہنچ چکی ہے، لیکن حکمران طبقہ اب بھی “سب اچھا ہی” کی گردان کر کے زمینی حقائق سے نظریں چرا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، عوام کے چھینے گئے مینڈیٹ کو واپس کیا جائے اور صوبے کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے نئے، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کی طرف پیش رفت کی جائے تاکہ عوام کے حقیقی نمائندے سامنے آ سکیں۔

سینیٹر عبدالواسع نے مزید کہا کہ کوئٹہ اہلِ بلوچستان کا مشترکہ گھر ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چھ ملین سے زائد آبادی کا یہ شہر بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جمعیت علما اسلام نے ماضی میں کوئٹہ کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، مگر گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں نے ترقی کے سفر کو شدید نقصان پہنچایا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں