پاک ایران سرحدی تجارتی پوائنٹ گبد ریمدان پر تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کے باعث کاروباری پہیہ مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایل پی جی (LPG) کا شدید بحران پیدا ہونے اور قیمتوں میں بے پناہ اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے پاکستان کسٹمز پر مبینہ نااہلی اور ملی بھگت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈر ٹریڈ کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آبنائےہرمز کی بندش اور تفتان بارڈر پر بلوچستان کے موجودہ حالات کے باعث ایل پی جی کی درآمد پہلے ہی معطل تھی،
جس کے بعد گبد ریمدان بارڈر ملک بھر کے لیے ایل پی جی امپورٹ کرنے کا واحد اور اہم ترین تجارتی گیٹ وے بن چکا تھا۔ تاہم اب کسٹمز حکام کی مبینہ مجرمانہ خاموشی اور بلاجواز رکاوٹوں کے باعث گبد ریمدان سے بھی ایل پی جی کی آمد مکمل طور پر رک گئی ہے۔گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر جیہند ہوت نے اس حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی تجارتی گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے سے روک کر این ایل سی ( این ایل سی) کے احاطے سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز حکام کی ان رکاوٹوں سے قانونی کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف قومی خزانے اور ایف بی آر کے ریونیو کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، بلکہ سرحد پر جاری اس غیر یقینی صورتحال کے باعث سینکڑوں مقامی افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
صدر چیمبر آف کامرس نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر قانونی اور دستاویزی کاروبار کے راستے میں اسی طرح رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو اس سے اسمگلنگ کو فروغ ملے گا، جس کا براہِ راست خمیازہ ملکی معیشت کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ گبد ریمدان بارڈر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایرانی تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت کو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔
تاجر برادری نے انتباہ کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے نہ کیے گئے اور کسٹمز حکام کے رویے کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور نہ کی گئیں، تو وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔









