45

بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش رکھنے والے اپنا شوق پورا کر لیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تبدیلی کی خواہش رکھنے والے شوق پورا کر لیں ،صدر مملکت نے پارلیمانی ارکان سے ملاقات سے قبل اور بعد میں فون کیا تھا ان کی ہدایات پر من و عن عمل ہوگا،

بلوچستان کا رواں سال کا بجٹ بھی 100فیصد خرچ کریں گے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ آدھا بجٹ خرچ اور آدھا لیپس ہو عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کریں گے ، پشین اسٹاپ کی سڑک ایف سی ہیڈکوارٹر کی دیوار کے مکمل ہونے کے بعد مکمل کھولی جائے گی،

یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک تک سڑک کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر صوبائی وزیر میر ضیاء اللہ لانگو، رکن اسمبلی زرک خا ن مندوخیل، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئی جی ایف سی کے گھر پر حملے میں ان کی اہلیہ اور بچے زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پشین اسٹاپ آنے والے روڈ کو بند کیا گیا تھا

فی الحال سڑک یک طرفہ طور پر کھلی ہے جوں ہی دیوار کی مضبوطی کا کام مکمل ہوگا اسکے بعد اس سڑک کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گانئی سڑک کی تعمیر ترقی کاحصہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئٹہ کے ترقیاتی کاموں کو تیز تر کیا جائے بلوچستان کے عوام کو بتانا چاہتاہوں کہ 70روز میں چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک سڑک کو بھی دو رویہ کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ امن و امان کے اعداد و شمار میں کچھ بہتری آئی ہے ہم کنفلکٹ زون میں رہتے ہیں اس وقت خطے میں جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں پراکسیز کی کوشش ہے کہ وہ بلوچستان کو ہدف بنا کر حالات خراب کریں حکومت کا عزم ہے کہ وہ ایک ،ایک شہری کا تحفظ یقینی بنائے کوئٹہ میں امن و امان کے لیے حکمت عملی بناکر جرائم پر قابو کریں گے جلد ہی شہر میں اسٹریٹ کرائم میں فرق نظر آئے گا ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 249ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات طے کیے تھے جو کہ بعض ضروریات کی بناء پر بڑھا ہے اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہوں کہ 100فیصد پیسے خرچ ہونگے ہم نے گزشتہ سال بھی ریکارڈ بنایا تھا اس بار بھی بنائیں گے یہ نہیں ہوسکتا کہ چچا عمر دین کے پیسے 60فیصد خرچ اور باقی لیپس ہوں عوام کا پیسہ عوام پرخرچ ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمانی ارکان سے ملاقات سے ایک روز قبل مجھ سے فون پر رابطہ کر کے کہا تھا کہ وہ ایک اجلاس کرنا چاہتے ہیں جس میں کچھ دوستوں کی خواہش تھی کہ وہ صدر مملکت سے میری غیر موجودگی میں ملنا چاہتے ہیں جس پر میں نے جواب دیا تھا کہ یہ بہت اچھی بات ہے

صدر مملکت پارٹی بھی چلا رہے ہیں ان سے کوئی میری موجودگی یا غیر موجودگی میں ملنا چاہتے ہے تو سو بسم اللہ ۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کا ملاقات کے بعد بھی فون آیا تھا جس میں انہوں نے کچھ ہدایات دیں ہیں ان پر ہم من و عن عمل کریں گے ۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے جب پوچھا گیا کہ صدر مملکت سے ملاقات کے بعد بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کی بارگشت سنائی دے رہی ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کروا لیں شوق پورا کرلیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں