اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا حصہ ہے، اسے غیر آئینی اقدام قرار دینا درست نہیں، اسپیکر بلوچستان اسمبلی۔
جہاں صوبائی حکومت اپنے فرائض موثر انداز میں انجام دینے میں ناکام ہو، وہاں آئینی تقاضوں کے مطابق گورنر راج کے نفاذ پر غور کیا جا سکتا ہے، کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی۔موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور حکومتی امور چلانے کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، اسپیکر بلوچستان اسمبلی۔دہشت گردی جیسے ناسور سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے، لیکن جب ایسے سنگین حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جائے تو گورنر راج جیسے آئینی اقدام پر غور ناگزیر ہو جاتا ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو آئینی اور قانونی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، اسے محض سیاسی تنقید کا موضوع نہ بنایا جائے، اسپیکر۔بلوچستان میں بھی 2013 میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، اس لیے گورنر راج کی بات کرنا کوئی انہونی یا غیر معمولی بات نہیں، اسپیکر بلوچستان اسمبلی۔گورنر راج آئین میں موجود ایک انتظامی و آئینی طریقہ کار ہے، اس پر سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اسے تنقید کی بنیاد بنا کر غیر معمولی معاملہ قرار دینا مناسب نہیں، اسپیکر۔
صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری عوام کو انتظامی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے، کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی۔آئینی معاملات پر بحث سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حقائق اور آئین کی روشنی میں ہونی چاہیے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی۔کسی بھی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ آئین میں درج طریقہ کار اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی









