ہنہ اڑک واقعہ قومی اختیار سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے، بلوچستان کے موجودہ حالات پر بعض سیاسی جماعتیں جوابدہ ہیں، لشکری رئیسانی

9

سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے واقعہ کواس سرزمین کے لوگوں کو ان کے قومی اختیار اور امور سے دستبردار کرانے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات یہاں رکنے والے نہیں، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کرانے اور ڈی ایچ اے ایکٹ کی خالق جماعتیں بلوچستان کے موجودہ حالات پرعوام کو جوابدہ ہیں، بیرون ملک سے جاری اپنے بیان میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے واقعہ میں جاں بحق افراد کے خاندانوں سے ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات بلوچستان کے لوگوں کے قومی امور واختیار سے توجہ ہٹانے کیلئے ہورہے ہیں ،یہ واقعات یہاں رکنے والے نہیں یہ کوئٹہ کے نجی ہوٹل اور اس کے گردونواح میں بننے والی سازشوں اور جعلی انتخابات کا نتیجہ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ ان پارٹیوں کا احتساب کریں جو اپنے اپنے پارٹی منشور ٹھیکیداری نظام کے تحت چلارہے ہیں ان نام نہاد سیاسی و سماجی رہنماں کا احتساب کریں جو نجی ہوٹل سازش کا حصہ بنے ،وہ پارٹیاں جنہوںنے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کرایا اوراپوزیشن میں بیٹھے خاموش ہیں یا بلوچستان اسمبلی سے پاس کرائے گئے ڈی ایچ اے ایکٹ کی خالق جماعتیں بلوچستان کے موجودہ حالات پر عوام جوابدہ ہیںبعض کو کشمیر کے امور پر تو زیادہ دلچسپی ہے لیکن بلوچستان کے امور پر نہ پارلیمان کی توجہ ہے اور نہ ہی بلوچستان کی نمائندگی کے دعوی کرنے والوں کی ہے، انہوںنے مزید کہاکہ قومی امور سے بے خبر اور پی ایس ڈی پی کی لوٹ میں مصروف سیاسی جماعتیں تاریخ میں مجرم قرار دی جائیں گی، خود کو سیاسی کارکن کہنے والا اگر اپنا قومی اور سیاسی احتساب نہیں کریگااس کو بھی تاریخ میں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائیگا، آج خود احتسابی کی ضرورت ہے اور سرزمین کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے قومی وطن کے لوگ اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد کیلئے قربان کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں