صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امن و امان کے قیام، ریاستی رٹ کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔
مینا مجید بلوچ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سیاسی رہنما یا جماعت آئین، قانون اور ریاست سے بالاتر نہیں ہو سکتی، جبکہ اختلافِ رائے کے حق کو انتشار اور قانون شکنی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کی رہائی کے نام پر ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے، سرکاری نظام مفلوج کرنے اور ریاست پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔ سیاسی مسائل اور قانونی معاملات کو تصادم کے بجائے آئینی و قانونی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
صوبائی مشیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات کے پیش نظر وفاقی حکومت کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے۔
مینا مجید بلوچ نے مزید کہا کہ سیاسی وابستگیوں اور جماعتی مفادات سے بڑھ کر پاکستان کا امن، سلامتی اور ریاستی استحکام اہم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر راج کے نفاذ سے خیبر پختونخوا میں امن و استحکام اور قانون کی حکمرانی کو تقویت ملے گی۔









