صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی لمحہ فکریہ بن چکی ہے اور پانی کی صورتحال روز بروز گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر نظام نے زیر زمین پانی کے ذخائر کو تباہ کردیا ہے، پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنا ہوگا، بصورت دیگر ہم آنے والی نسلوں کے حصے کا پانی بھی استعمال کرلیں گے۔
بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس میں ضلع پشین میں زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی سے متعلق اپوزیشن رکن اسمبلی سید ظفر آغا نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پشین میں زیر زمین پانی کی سطح روز بروز گر رہی ہے، جس کے باعث انار، سیب، انگور اور دیگر پھلوں کے باغات شدید متاثر ہورہے ہیں جبکہ باغات کی پیداوار میں کمی سے مقامی زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈیموں کی فوری مرمت اور صفائی یقینی بنائی جائے جبکہ نئے ڈیموں اور چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔ سید ظفر آغا نے کہا کہ پانی کی قلت اور باغات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث زمیندار احتجاج پر مجبور ہیں، لہٰذا حکومت اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ حکومت زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کررہی ہے، تاہم ڈیموں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت نے فنڈز فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت کو فنڈز فراہم کرنا ہوں گے کیونکہ صوبے بھر میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور پانی کے ذخائر میں کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے اور وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں بلوچستان کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت صوبے میں 35 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، اس لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں حقائق بیان کرنا بھی جرم بن جاتا ہے، جبکہ آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔









