خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا سیفٹی سروے، 26 اکتوبر تک رپورٹ طلب

34

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی ساختی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں تکنیکی ٹیموں کے ذریعے تفصیلی معائنے کا فیصلہ کرلیا محکمہ مواصلات و تعمیرات کو 26 اکتوبر 2026 کی دوپہر 12 بجے تک جامع رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔

محکمہ ایلیمنٹری و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) سے تمام اضلاع کے لیے اہل تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔

مراسلے کے مطابق یہ فیصلہ پشاور کی دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کے کلاس روم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے تناظر میں کیا گیا، جس میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا جبکہ طلبہ اور اساتذہ بھی زخمی ہوئے تھے۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ نامزد تکنیکی ٹیمیں متعلقہ ضلعی تعلیمی حکام کے تعاون سے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا تفصیلی معائنہ کریں۔

اس دوران چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کی حالت کا جائزہ لینے کے ساتھ ممکنہ نقائص اور حفاظتی خطرات کی نشاندہی بھی کی جائے۔

حکام کے مطابق معائنے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ ان کی ساختی حالت اور حفاظتی ضروریات کا تعین کیا جاسکے۔

اگر کسی عمارت سے طلبہ، اساتذہ یا دیگر عملے کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو تو تکنیکی ٹیمیں سروے مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر متعلقہ ضلعی حکام کو آگاہ کریں گی۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کے حوالے سے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، جن میں عمارت تک رسائی محدود کرنا یا اس کا استعمال عارضی طور پر معطل کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے، تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جاسکے۔

ہدایت کے مطابق معائنے کے بعد ہر اسکول کے لیے بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا این او سی بھی جمع کرایا جائے گا۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو تمام اضلاع کی جامع معائنہ رپورٹس مرتب کرکے مقررہ وقت تک جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں اسکولوں کی عمارتوں کی درجہ بندی، معائنے کے دوران سامنے آنے والے نقائص، ممکنہ حفاظتی خطرات اور ان کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اصلاحی اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی جان و سلامتی یقینی بنانے کے لیے معائنے کا عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور خطرناک عمارتوں کے بارے میں بروقت اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں