جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، حافظ شبیر احمد مدنی، سید حاجی عبدالواحد آغا، حافظ مسعود احمد، حاجی محمد قاسم خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، صفی اللہ مینگل اور شاہ زاہد مشوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان پر مسلط حکومتی ٹولہ صوبے کے انتظامی امور چلانے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے ان کی کارکردگی دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ گلی محلے کا پرچون اسٹور چلانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
حکمرانوں کی نااہلی بدانتظامی اور عوام دشمن پالیسیوں نے صوبے کو غذائی قلت مہنگائی اور سنگین انتظامی بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہی. انہوں نے کہا کہ وسائل سے مالامال بلوچستان کے عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کا بے رحم ٹولہ عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش و عشرت میں مصروف ہے۔
حکمرانوں کی گفتار اور کردار میں واضح تضاد ہے عوامی خدمت کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو مزید کھوکھلے نعروں نمائشی اقدامات اور جھوٹی تسلیوں سے بہلایا نہیں جا سکتا۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کے بجائے غذائی قلت مہنگائی بدامنی اور انتظامی بدحالی کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔









