وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو جماعت اسلامی کے کسی بھی دبائو کے تحت پٹرولیم لیوی کی شرح میں فوری کمی کے امکان کو مسترد کر دیا، تاہم انھوں نے کہا کہ حکومت اگلے بجٹ سے شرحوں میں تدریجی کمی پر غور کرے گی۔
دوسری طرف وزیر پٹرولیم علی پرویز نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اہداف کا حصہ تھی اور حکومت نے مالی سال 2022-23سے اس مد میں 4.4 کھرب روپے اکٹھے کیے ہیں۔ چار سالہ وصولی حکومت کے اپنے اہداف سے 227 ارب روپے زیادہ تھی۔
تفصیل کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اگلے بجٹ کے لیے پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے قابلِ عمل تجاویز اور اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی اور رانا ثناء اللہ اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے ۔ جماعت اسلامی بھی اپنے تین نمائندے نامزد کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح دونوں اطراف کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھ کر ان امور پر تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ ہمارا مشترکہ مفاد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
یاد رہے جماعت اسلامی ایندھن پر بھاری پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
احسن اقبال نے کہا اپنے محدود وسائل کے اندر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے۔ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ہر ملک ممکنہ معاشی اثرات سے خود کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے۔
وزیر کے مطابق کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا صورتحال پیدا ہو جائے، عالمی حالات کیسے رخ اختیار کریں گے، کہاں ڈرون گر سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں کہاں پہنچ سکتی ہیں۔
ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہم آج عارضی عوامی داد وصول کرنے کے لیے ایسا فیصلہ نہ کریں جو کل ملک کے لیے ایک بڑے بحران میں بدل جائے۔
حکومت اس وقت 80 روپے لیٹر لیوی، 5 روپے لیٹر کلائمٹ لیوی اور 20.56 روپے لیٹر کسٹم ڈیوٹی وصول کر رہی ۔ اس سے کل ٹیکس تقریباً 106 روپے بنتا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی میں تحریری جوابات جمع کرائے جس میں لیوی کی وصولی کی تفصیلا ت شیئر کی گئیں۔
انکے جواب سے ظاہر ہوا کہ حکومت نے مالی سال 2022-23سے مالی سال 2025-26 تک 4.2 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 4.4 کھرب روپے مالیت کی لیوی اکٹھی کی۔
گزشتہ مالی سال کے دوران 1.468 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں اصل عبوری وصولی 1.567 کھرب روپے رہی۔ جاری مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا بجٹ تخمینہ 1.676 کھرب روپے ہے۔
پرائس ڈفرینشل کلیمز کی مد میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی زیر التوا ادائیگیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ 66.5 ارب روپے کے بل ابھی بھی بقایا ہیں۔









