کوئٹہ کے سول سنڈیمن ہسپتال میں مبینہ جڑواں بچوں کی پیدائش کے معاملے کی انکوائری مکمل کرلی گئی۔ایم ایس ہسپتال ڈاکٹرعبدالہادی کاکڑ نے رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال میں خاتون کے ہاں صرف ایک بچے کی پیدائش ہوئی،جڑواں بچوں کی پیدائش کا دعویٰ ثابت کرنیکاکوئی ثبوت نہیں ملاتاہم ہسپتال کی الٹراساؤنڈ رپورٹ میں جڑواں بچوں کے حمل کا ذکر انسانی غلطی ہے۔
سول سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ کے مطابق اسپتال کے گائنی وارڈ میں مبینہ جڑواں بچوں کی پیدائش کے واقعہ کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی گئیںاس حوالے سے خاتون کے شوہر اوررشتہ داروں کو بھی بلایا گیاانہیں سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام دیگر ثبوت دکھائے،رپورٹ کمیٹی کے مطابق سول اسپتال میں خاتون کے ہاں صرف ایک بچے کی پیدائش ہوئی، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ نی7 ستمبرکوالٹراساؤنڈ رپورٹ پرتکنیکی وضاحت بھی جاری کردی تھی انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کے بیانات اورطبی ریکارڈ سے ایک بچے کی پیدائش کی تصدیق ہوئی۔
کمیٹی نے معاملے میں کسی کوتاہی یا دوسرے بچے کی پیدائش کا ثبوت نہیں پایا اس سے قبل خاتون کے شوہر نے الٹراساونڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر الزام عائد کیاتھا کہ اس کی اہلیہ کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکاہے۔









