43

پنجاب میں سیلاب کا شدید خطرہ برقرار، دریائے چناب، راوی اور ستلج بپھر گئے، درجنوں اضلاع زیرِ آب

پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریاؤں کی بپھری ہوئی لہروں نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے پر شدید سیلابی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی، جہاں کل شام 6 بجے تک بہاؤ 2 لاکھ 17 ہزار 660 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

بلوکی بیراج پر بھی پانی کی سطح 1 لاکھ 4 ہزار 435 کیوسک تک جا پہنچی، جبکہ جسر کے مقام پر 99 ہزار 470 کیوسک کا درمیانے درجے کا سیلاب دیکھا گیا۔

ادھر دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے، جہاں پانی کی سطح 2 لاکھ 61 ہزار 53 کیوسک تک پہنچ گئی۔ ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے اور ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

سب سے خطرناک صورتحال اس وقت دریائے چناب میں ہے، جہاں قادرآباد کے مقام پر پانی کی سطح کچھ کمی کے بعد 5 لاکھ 34 ہزار 409 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جو قبل ازیں 6 لاکھ 60 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی تھی۔

ہیڈ خانکی پر اونچے درجے اور ہیڈ تریمو پر پانی کی سطح 96 ہزار 594 کیوسک تک محدود رہی۔

ملتان کے ہیڈ محمد والا پر کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا فیصلہ

ملتان میں دریائے چناب کی بپھری موجوں کے باعث اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر وسیم حامد کے مطابق، شہری آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا کے مقام پر کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیلابی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں سے اب تک 60 فیصد تک آبادی کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی افراد کو نکالنے کے لیے بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

این ای او سی کے مطابق 31 اگست کو ہیڈ تریمو پر پانی کا بہاؤ 7 سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو جھنگ اور گرد و نواح کے علاقوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

3 ستمبر تک سیلابی ریلا پنجند تک پہنچے گا، جہاں 6.5 سے 7 لاکھ کیوسک کے درمیان بہاؤ متوقع ہے

دریائے راوی میں بھی سیلابی پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، دریا کنارے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔

راوی، چناب اور ستلج میں سیلابی ریلا گزرنے کے باعث اطراف کے دیہات زیر آب آگئے جبکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں، کئی چھوٹے بند بھی ٹوٹ گئے ہیں۔

اب تک گھروں کی چھت گرنے اور سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 11 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

مریم اورنگزیب

دریائے راوی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہاں تاریخی سیلابی ریلہ بہہ رہا ہے، اس کے باوجود تمام آبادیوں کو ریسیکو کر لیا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہتی ہوں11 لوگ جاں بحق ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے لوگ جاں بحق نہیں ہوئے بلکہ ہم نے ہزاروں لوگوں کو منتقل کیا جن میں مویشی بھی شامل تھے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی نگرانی میں تمام ادارے اس وقت فیلڈ میں تین دن سے موجود ہیں، عوام سے اپیل ہے کہ جہاں سیلابی ریلا گزر رہا ہے اس کے قریب نہیں جائیں۔

شہریوں کا انخلاء

پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

دریائے چناب، راوی، ستلج، جہلم اور سندھ سے ملحقہ علاقوں سے 3 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر سے 45 ہزار سے زائد افراد کا انخلاء ممکن بنایا گیا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن شامل ہیں۔ پنجاب کے 30 اضلاع میں جاری ٹرانسپورٹیشن آپریشن میں 669 بوٹس اور 2861 ریسکیورز شریک ہیں۔

منڈی بہاؤالدین کے علاقے کالا شیدیاں سے 816 اور حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 625 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

ننکانہ صاحب میں 1553 افراد کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکالا گیا، جن میں 568 خواتین اور 318 بچے بھی شامل ہیں۔

متاثرہ دیہاتوں سے 2392 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں ریسکیو آپریشن کے لیے 14 بوٹس، 93 ریسکیو ورکرز اور 122 رضاکار سرگرم عمل رہے۔

سیلاب متاثرین کے لیے قائم 7 فلڈ ریلیف اور شیلٹر کیمپس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر علاج، خوراک اور دیگر سہولیات کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں