اہلیانِ بلوچی اسٹریٹ، کانسی روڈ نے گورنمنٹ مڈل پرائمری سکول شالدرہ کی قیمتی عمارت مبینہ طور پر بلاجواز مسمار کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اہلیانِ بلوچی اسٹریٹ نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اہلِ علاقہ کی طویل جدوجہد اور کاوشوں کے نتیجے میں گورنمنٹ مڈل پرائمری سکول شالدرہ کے لیے فنڈز منظور کرائے گئے تھے، جس کے بعد سکول کی عمارت تعمیر کی گئی۔ سکول میں تقریبا 1100 بچے زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ طلبہ اور اساتذہ کی سہولت کے لیے تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے باتھ روم کی عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ مذکورہ قیمتی عمارت کو مبینہ طور پر بغیر کسی واضح قانونی یا مجاز منظوری کے مسمار کر دیا گیا،
جس کے باعث 1100 کے قریب طلبہ بنیادی سہولت سے محروم ہوگئے ہیں اور قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
اہلِ علاقہ نے سوال اٹھایا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی عمارت کو کس کے حکم یا اجازت سے مسمار کیا گیا اور اس حوالے سے محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام سے باضابطہ اجازت حاصل کی گئی تھی یا نہیں؟
اہلیانِ بلوچی اسٹریٹ نے وزیراعلی بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم، چیف انجینئر (سی اینڈ ڈبلیو)، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کی عمارت کی تعمیر پر آنے والی لاگت، فنڈز کے اجرا، عمارت کی موجودہ حالت، مسماری کے احکامات اور اس کے ذمہ دار افراد سمیت تمام پہلوں کی چھان بین کی جائے۔
اہلیانِ علاقہ نے مطالبہ کیا کہ سکول کے ہیڈ ٹیچر اور دیگر متعلقہ ذمہ داران سے جواب طلبی کی جائے اور اگر تحقیقات کے دوران کسی فرد کی غفلت، اختیارات سے تجاوز، غیر قانونی اقدام یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا عمل ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے وزیراعلی بلوچستان اور چیف سیکرٹری سے اپیل کی کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بھی اس معاملے کا نوٹس لے کر اپنے دائرہ اختیار کے تحت تحقیقات کرے، تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کیا جاسکے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اہلیانِ بلوچی اسٹریٹ نے مزید مطالبہ کیا کہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کرتے ہوئے سکول میں بیت الخلا سمیت تمام بنیادی سہولیات بحال کی جائیں اور اگر عمارت کی مسماری غیر قانونی یا بلاجواز ثابت ہو تو قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ذمہ داران سے کرائی جائے۔









