وزیراعظم اور صدر مملکت کا ماضی کو دہرانے کے بجائے مل کر حکومتی ذمہ داریاں نبھانے پر اتفاق

26

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی روکنے اور ماضی کو دہرانے کی بجائے آگے بڑھنے اور مل کر حکومتی ذمہ داریاں نبھانے پر اتفاق کیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی روکنے پر اتفاق کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا کہ مخالفین کو مذاق اڑانے کا موقع ملے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی معاہدے پر صدر مملکت کو بریفنگ دی اور اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی صدر مملکت کو بریفنگ سے صدر کو نظر انداز کیے جانے کا تاثر ختم ہوگیا، صدر مملکت منصب کے اعتبار سے سب کے بڑے ہیں اور وزیراعظم نے تکریم دی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مرکز اور پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رابطہ کمیٹیوں کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور دونوں جماعتوں کے درمیان موجود خلا اور مسائل کو رابطہ کمیٹیوں کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ماضی کو دہرانے کی بجائے آگے بڑھنے اور مل کر حکومتی ذمہ داریاں نبھانے پر اتفاق اور حکومت کی انتظامی اور سیاسی ذمہ داریاں مل کر نبھانے کا فیصلہ ہوا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انتظامی یونٹس، شعبوں اور گورنرز کی کارکردگی سے متعلق گفتگو کا بھی جائزہ پیش کیا۔

قبل ازیں ایوان صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدر مملکت آصف علی زرداری سےایوان صدر میں ملاقات ہوئی اور وزیراعظم نے صدر کو یوم آزادی کی مبارک باد دی، اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان بھی موجود تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ‎وزیراعظم نے صدر مملکت کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے آگاہ کیا اور صدر مملکت نے دفاعی تعاون، علاقائی امن و استحکام اور امت مسلمہ کی سلامتی کے فروغ کے حوالے سے سہ فریقی امن معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

صدر زرداری نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط تزویراتی شراکت داری میں ڈھالنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔

ملاقات میں داخلی اور خارجی امور سمیت فتنۃ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور وطن عزیز سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

صدر مملکت نے علاقائی صورت حال کے تناظر میں عوام کو درپیش معاشی مشکلات میں ریلیف فراہم کرنے، اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی اور انہیں مناسب نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

بیان کے مطابق صدر مملکت نے اس امید کا اظہار کیا کہ علاقائی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں سے ملک کے عالمی مقام کو مزید تقویت ملے گی اور اس کے مثبت اثرات ملکی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں