پشاور: نجی اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچے اور دو ٹیچر جاں بحق، 50 زخمی

28

دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے، نتیجے میں 33 بچے اور دو خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق دیر کالونی کے علاقے میں واقع الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں متعدد بچے چھت تلے دب گئے، جن میں جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ 50 سے زیادہ زخمی بھی شامل ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں 60 بچوں کو لایا گیا۔ ان میں 33 بچوں کی اموات ہوئیں جبکہ 27 بچوں کو علاج کی فراہمی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ اسپتال میں اب کوئی بچہ زیر علاج نہیں۔ اسی طرح نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال میں 32 بچوں کو مجموعی طور پر لایا گیا۔ ان میں دو کی اموات کو کنفرم کیا گیا۔

اس المناک واقعہ کے بعد جب بچوں کو اسپتال لایا گیا تو اسپتال کی ایمرجنسی قطار سے آنے والی ایمبولینسز کے سائرن سے گونج اٹھی۔ ایمبولینسوں سے نکالے جانے زخمی بچوں کو دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص اشکبار تھا جبکہ بچوں کے والدین کی حالت اس سے بھی بری تھی۔

نڈھال والدین آنکھوں میں آنسو لئے ہر زخمی بچے کی جانب لپک رہے تھے۔ بعض والدین کی صورت حال تو یہ تھی کہ ان کے پاؤں میں ٹھیک سے چپلیں بھی نہ تھیں، روتی بلبلاتی مائیں بھاگ بھاگ کر ایمرجنسی ٹراما سنٹر سے نکلنے والے طبی عملے سے پوچھتیں۔

اسپتال کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تمام آن کال طبی عملے کو بھی طلب کرلیا گیا جبکہ ایمرجنسی میں متاثرہ بچوں اور لواحقین کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد بھی امنڈ آئی جس کے باعث اسپتال آنے والی ایمبولینسز کو نہ صرف راستہ ملنا دشوار ہوگیا تھا بلکہ لوگوں کے بےپناہ رش کے باعث ہسپتال انتظامیہ کو بھی شدید مشکلات درپیش تھیں۔

اس صورتحال پر ہسپتال انتظامیہ کو مزید سکیورٹی طلب کرنی پڑی جنہوں نے پھر وہاں ایمرجنسی میں موجود بعض تماشائیوں کو باہر نکالا۔ہسپتال کی جانب سے اس سلسلے میں ہیلپ ڈیسک بھی قائم کردیا گیا تھا جو متاثرین کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور زخمیوں کے اندراج کا کام کررہا تھا جبکہ بعض عملے کے ذمے ان زخمی یا جاں بحق بچوں کی ڈاکو مینٹیشن مکمل کرنا تھا۔

ہسپتال کی جاری حتمی فہرست کے مطابق ان بچوں میں دو ٹیچرز سمیت 14 فیمیل بچیاں شامل تھیں جبکہ باقی تمام بچے تھے۔ بچوں کی عمریں بھی 6 سے 13 سال کے درمیان تھیں۔ خواتین ٹیچرز میں 25 سالہ ثمرین اور 27 سالہ مہوش شامل ہیں۔

فہرست کے مطابق جن بچوں کی اموات کو کنفرم کیا گیا ہے ان میں ابراہیم، محمد، کاشف نجیب، اعظم، عبدالبصیر، عظیم اللہ، زبیر جان، ہمدان، بصیر خان، ابوذر، ساحل خان، مبشر، حماد خان، ابرار، سنان خان، عثمان، محمد، شاہ فیصل، عزیز، محمد،حبیب اللہ کے علاوہ 6 سالہ مدینہ، 7 سالہ حلیمہ بی بی اور 35 سالہ ثمرین بھی شامل ہیں۔

اسی طرح چار جاں بحق بچوں کی تاحال کوئی شناخت نہیں ہوسکی۔ فہرست کے مطابق جن 30 بچوں کو طبی علاج فراہم کرکے ڈسچارج کیا گیا ان میں صفا، عمیر خان، سیما بی بی، تنزیلہ بی بی، مہوش، ثنا بی بی، نساء بی بی، عمر خان، نادیہ بی بی، شبیر خان، انیسہ حبیب، ادریس، دانیال، ابراہیم، حاجراں بی بی، یوسف خان، فضل ملک، حفضہ، نفیسہ، ثنا بی بی، موسی، نتاشہ، عمران ، طلحہ، اویس سید ابرار، ابراہیم شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں