ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں جعلی حکومت کی طرف سے بجٹ برائے سال 2027-2026 میں کوئٹہ شہر کو نظر انداز کرنے اور فارم 47 کی طرز پر ٹھیکیدار مسلط ممبران کی طرف سے صوبائی حلقہ 40 اور 42 میں نئی اسکیمیں نہ ڈالنے اور شہر بھر کو نظر انداز کرنے کو غیر مقامی مسلط ٹھیکیداروں کی نااہلی اور کوئٹہ شہر کی ترقی سے عدم دلچسپی اور کاروباری سوچ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد نے پارٹی کے سابقہ اراکین اسمبلیوں کی چند آن گوئنگ اسکیموں کو از سر نو اپنے منصوبوں کا حصہ بناکر عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے جو سیاست اور سیاسی عمل سے زیادہ ایک مجرمانہ اقدام اور فراڈ جیسی سازش ہی۰ بیان میں کہا گیا اس جعلی حکومت کے دور میں کوئٹہ والوں کے ساتھ مسلسل زیادتی ہورہی ہے کوئٹہ کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ نسلی اور سیاسی اقربا پروری کے ذریعے میرٹ کی دھجیاں اڑاکر اپنے من پسند افراد کو سفارش یا وابستگیوں کی بنیاد پر نوازا جارہا ہی۰ بیان میں کہا گیا کہ صوبائی حلقہ پی بی 40 کے پشتون باغ اور ہزارہ ٹاون میں صرف ایک گلی کو ٹف ٹائل کرنے کو پی ایس ڈی پی میں ڈالا گیا ہے جبکہ دیگر علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اسی طرح پی بی 42 میں پارٹی چئیرمین و سابقہ صوبائی وزیر کے جاری منصوبوں کو ٹھیکیدار جعلی رکن اسمبلی نے اپنے پی ایس ڈی پی میں از سر نو شامل کرکے عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے ان لوگوں کے پاس عوام کی ترقی کے لئے کوئی ویژن موجود نہیں یہ مسلط جعلی اراکین صرف کاروبار کرنے اور اسمبلی کی رکنیت کو اپنے کاروبار کی ترقی کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں انکا عوام اور عوامی مفاد سے کسی طرح کا تعلق نہیں بیان میں کہا گیا کہ امن و امان اور قومی شاہراہوں پر سفر کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی سیاسی لائحہ عمل نہیں دیاگیا اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا گیا وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہی۰ بیان میں بجٹ کو کوئٹہ دشمن، ملازم دشمن اور عوام دشمن بجٹ قرار دیکر اسے مسترد کردیا گیا
جعلی حکومت کے دور میں کوئٹہ والوں کے ساتھ مسلسل زیادتی ہورہی ہے ، ایچ ڈی پی
23









