پی ڈی ایم اے بلوچستان کا یونیورسٹی آف بلوچستان کے سوشل ورک انٹرنز کے لیے مطالعاتی دورہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو نظام پر بریفنگ

32

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے شعبہ سوشل ورک کے انٹرنز کے لیے اپنے ہیڈکوارٹرز ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ میں مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا، جس کا مقصد طلبہ کو قدرتی آفات سے نمٹنے، ہنگامی امدادی سرگرمیوں اور سرکاری اداروں کے عملی طریقہ کار سے آگاہ کرنا تھا۔

یہ دورہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر)کے بلوچستان ریجنل آفس کی درخواست پر منعقد کیا گیا، جو طلبہ کے انٹرن شپ پروگرام میں معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ انہیں سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں اور عملی امور کا تجربہ حاصل ہو سکے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غوری زئی کی ہدایات اور ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن نوید احمد کی نگرانی میں ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو 1122 اصغر علی جمالی نے طلبہ کو پی ڈی ایم اے کے دائرہ کار، فرائض، انتظامی امور اور مجموعی نظامِ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران طلبہ کو پی ڈی ایم اے کے انسانی ہمدردی پر مبنی کردار، ریسکیو ونگ کے فوری امدادی نظام، ابتدائی وارننگ کی ترسیل کے نظام اور اس کے مختلف حصوں سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں اور کمیونٹی کی سطح پر اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر طلبہ کو ریسکیو 1122 کی گاڑیوں اور فائر بریگیڈ کا معائنہ بھی کرایا گیا اور انہیں ہنگامی حالات میں ان وسائل کے استعمال اور امدادی کارروائیوں کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا گیا۔

بعدازاں طلبہ نے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (پی ای او سی) کا دورہ کیا، جہاں انہیں چوبیس گھنٹے نگرانی، ہنگامی صورتحال کی مانیٹرنگ اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران طلبہ کو بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کے تحفظ، مالی و دیگر نقصانات میں کمی اور سرکاری و عوامی املاک کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات اور امدادی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔

مطالعاتی دورے سے سوشل ورک کے طلبہ کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی پالیسیوں، عملی طریقہ کار اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔پی ڈی ایم اے کی میڈیا ٹیم نے دورے کی سرگرمیوں کو بھی کوریج دی اور اہم لمحات کو دستاویزی شکل دے کر اتھارٹی کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں