پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوئٹہ شہر میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے انتہائی کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کو ہزاروں روپے کے بھاری بل بھیجنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے اور بنیادی سہولت سے محروم شہریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دیا ہے۔پارٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ابھی سردی نے پوری شدت اختیار نہیں کی، لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی نے صارفین کو بھاری بلوں کے ذریعے پریشان کرنا شروع کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض صارفین کو صرف 26 یونٹ گیس استعمال کرنے پر 18 ہزار 410 روپے کا بل بھیجا گیا ہے، جبکہ 100 یونٹ سے کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کو بھی 18 ہزار روپے سے زائد کے بل موصول ہو رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ گیس کی فراہمی اور بلنگ کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔پارٹی نے کہا کہ ایک طرف کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے، پائپ لائنوں میں مطلوبہ مقدار میں گیس دستیاب نہیں اور شہری کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ دوسری طرف بھاری بلوں کی بھرمار نے پہلے سے مہنگائی اور بے روزگاری کے شکار عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
عوام کو گیس فراہم کیے بغیر بھاری بل بھیجنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ گیس ایک بنیادی ضرورت ہے، کوئی عیش و عشرت کی سہولت نہیں۔ غریب مزدور، محنت کش، تنخواہ دار ملازمین اور محدود آمدن والے خاندان پہلے ہی بجلی، خوراک، ادویات، کرایوں اور دیگر ضروری اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں غیر متناسب اور ناقابلِ برداشت گیس بلوں کے ذریعے عوام سے رقم وصول کرنا ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔
پارٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، اوگرا اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں، کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کے بھاری بلوں کا مکمل آڈٹ کرائیں، بلوں میں شامل مقررہ چارجز، سلیب ریٹس، ٹیکسوں اور دیگر مدات کی وضاحت عوام کے سامنے لائیں اور اگر بلنگ میں بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو غیر منصفانہ بل فوری درست کرکے صارفین کو ریلیف فراہم کریں۔
پارٹی نے مزید مطالبہ کیا کہ گیس کی فراہمی، پریشر اور بلنگ کے نظام کی نگرانی مؤثر بنائی جائے، صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جائے اور عدالتوں کے متعلقہ احکامات پر ان کی اصل شرائط کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اگر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے خبردار کیا کہ عوام کو گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھ کر بھاری بلوں کی ادائیگی پر مجبور کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی ریلیف فراہم کریں، بصورتِ دیگر عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔









