پاکستان دور دراز ممالک سے دوہری شہریت کے معاہدے کرتا ہے مگر ہمسایہ ممالک ایران، افغانستان اور عمان سے کیوں نہیں؟ سینیٹر جان محمد بلیدی

32

نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر جان محمد بلیدی نے سینیٹ آف پاکستان میں مکران اور رخشان ڈویژن کے لوگوں کے بلاک شناختی کارڈز پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں شناختی کارڈز کی بندش سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان برصغیر کا حصہ نہیں رہا بلکہ پاکستان سے قبل ایک الگ ریاست تھی، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی تھیں۔ دونوں جانب کے لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات اور رشتہ داریاں ہیں۔ اسی طرح گوادر بھی عمان کے سلطان کے زیرِ نگرانی رہا ہے۔

لیکن جب گوادر واپس بلوچستان اور پاکستان میں شامل ہوا تو گوادر کے سینکڑوں لوگوں کے پاس عمانی شہریت تھی۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ عمان کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ کرے تاکہ گوادر کے لوگوں کو مسائل اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گوادر کے مقامی شہری بیک وقت عمان اور پاکستان، دونوں کی شہریت رکھتے ہیں۔ حالیہ حکومتی اقدامات سے وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان کے بینک اکاؤنٹس بند ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مسائل و مشکلات کا شکار ہیں۔ اسی طرح دیگر علاقوں کے شہری بھی ایرانی اور افغان شہریت کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دور دراز ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے معاہدے ہیں، لیکن اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلے کے مکمل حل کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا کے ریکارڈ میں اگر خاندان کے ایک فرد کے پاس بھی ایرانی شہریت کا سرٹیفکیٹ ہے تو پورے خاندان کے شناختی کارڈز بلاک کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور دیگر افراد کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے ریاست ضروری اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں