6

بچت پالیسی کے باوجود تیل کی کھپت میں کمی نہ آسکی

ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ سے دنیا بھر میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے سے فیول کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک بڑھ چکی ہیں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستانی حکومت نے بھی فیول کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے کفایت شعاری پالیسی اختیار کی جس کے تحت ہفتہ اسکولوں میں چھٹیاں کی گئیں، سرکاری اداروں گاڑیوں کے غیرضروری استعمال اور ایندھن کی کھپت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

لیکن حکومت کی بچت پالیسی پر عمل کے بعد بھی تیل کی کھپت میں کمی نہ آسکی۔ ذرائع وزارت پٹرولیم کے مطابق وزارت پٹرولیم نے مارچ کے آخری 15روز میں پیٹرول کی سیل میں اضافے کو رپورٹ کیا ہے۔

پیٹرولیم وزارت حکام نےتیل کی کھپت میں اضافہ سےحکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ پچھلے سال مارچ کی نسبت اس سال 25 فیصد ڈیزل اور18 فیصد پیٹرول زیادہ استعمال ہوا۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیربحث آیا جس پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

حکومتی ایکشن کے بعد امکان ہے کہ بڑی مچھلیاں پکڑی جائیں گی اور ایک انکوائری میں کچھ پیٹرولیم کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا بھی امکان ہے۔

حکومت کے لیے یہ امر حیران کن ہے کہ عید کی تعطیلات اور اسکولوں میں چھٹیوں کے باوجود تیل اور ڈیزل کی کھپت میں نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں