سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی نواب اسلم رئیسانی نے قلات ڈویژن ختم کرنے اور مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے خلاف آئینی درخواست بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر کردی درخواست میںحکومت بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے وکیل نواب اسلم رئیسانی کے وکیل ریاض احمد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 1973 کا آئین ہے آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاملے پر مستونگ اور قلات کے عام کو نہیں سنا کسی کو سنے بغیر تقسیم کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ سراوان جھالاوان کو سنے بغیر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا یہ ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس اقدام سے کابینہ اراکین بھی متاثر ہوئے لیکن وہ بھی خاموش ہیں۔ نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ حالات کی بہتری کے لئے نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن کی حیثیت ختم کرنے سے قلات کی تاریخی حیثیت ختم کر دی گئی، حکومت کوئی بھی الاٹمنٹ یا اراضی کی خریداری میں قبائل کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔









