یوریا کھاد کی قانونی سطح پر عدم فراہمی کے خلاف جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی سے وابستہ زمینداروں نے گھوڑا چوک کے مقام پر چیئرمین عبدالوہاب غلامانی کی قیادت میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا۔
قومی شاہراہ کی بندش کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عبدالوہاب غلامانی نے کہا کہ ضلع خضدار، نال، وڈھ اور زہری کے زمینداروں کے لیے یوریا کھاد کی قانونی فراہمی بند کر دی گئی ہے، جبکہ مبینہ طور پر بعض یوریا ڈیلرز چار ہزار روپے میں ملنے والی یوریا کھاد کی ایک بوری چوری چھپے آٹھ ہزار روپے میں فروخت کر رہے ہیں،
جس سے نہ صرف زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ضلعی انتظامیہ کی رٹ بھی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کی عدم دستیابی کے باعث زمینداروں کی کپاس سمیت دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ہم نے متعدد بار ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ یوریا کھاد کی بندش کے باعثزمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اس لیے کوئی مؤثر طریقہ کار وضع کرکے زمینداروں کے لیے کھاد کی دستیابی یقینی بنائی جائے، تاہم ہماری اپیلوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ عبدالوہاب غلامانی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے جانے کے باعث زمیندار آج مجبوراً قومی شاہراہ پر دھرنا دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔دریں اثنا ایڈیشنل کمشنر خضدار عبداللہ مینگل نے زمینداروں کی قیادت سے مذاکرات کیے اور انہیں یقین دلایا کہ یوریا کھاد کے ڈیلرز سے بازپرس کی جائے گی، جبکہ موجودہ ذخیرے کی کھاد ایک ہفتے کے اندر مناسب طریقہ کار کے تحت زمینداروں میں تقسیم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ آئندہ زمینداروں کے لیے قانونی طریقے سے یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد زمینداروں نے قومی شاہراہ پر جاری دھرنا ختم کر دیا اور پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔
اس موقع پر انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈووکیٹ بشیر احمد جتک، صدر اربابِ کمپلیکس بابا شفیق چنال، نیشنل پارٹی کے ریجنل سیکرٹری ایڈووکیٹ عبدالحمید بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میر جمعہ خان شکرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رہنما سونا خان مینگل، کسان بورڈ کے شاہین براہوئی، ڈی ایس پی محمد عالم لہڑی سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔









