سانحہ ہنہ اوڑک اور زیارت پر جے یو آئی نظریاتی کا احتجاج، امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

17

جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لونی صوبائی کنوئینر مولانا قاری مہراللہ مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی حیات اللہ کاکڑ صوبائی محتسب مولانا نیازمحمد کی قیادت میں احتجاجی جلوس سانحہ ہنہ اوڑک، سانحہ زیارت پر دھرنے میں شرکت کی دھرنے سے قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لونی نے شہدا زیارت اور ہنہ اوڑک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر کینٹ کے ناک کی نیچے ہنہ اوڑک میں نام نہاد مسلح جھتوں کی حملے اور زیارت میں ایک پانی کی ٹینک پر 35 پولیس کی ڈیوٹی اور ان کی شہادت سب کچھ ایک منصوبے کی تحت ہورہی ہیں۔

یہ صرف ہنہ اوڑک اور زیارت کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ پشتون اور بلوچ کو اپنے ساحل وسائل کا سزا دیا جارہا ہے 78 سال میں پاکستان کی وفاداری کا سزا دیا جا رہا ہے اور ایک طویل عرصے سے پشتون بلوچ لاشیں اٹھا رہی ہے اس ملک نے پشتون بلوچ کو لشوں کی سوا کچھ نہیں دیا ۔

فارم 47 حکومت لاشوں گرانے کے لیے مسلط کی گئی انہوں نے کہا کہ دہشت گردی واقعات سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا کر مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے ہنہ اوڑک کی قبائلی عوام پر خوف وہراس اور وحشت مسلط کرکے انہیں پرامن زندگی سے محروم کیاگیا بلوچستان کے عوام اپنے پیاروں کی جنازوں سے تھک کر ہارچکے ہیں کب تک قوم جنازے اٹھاتے رہینگی۔

ہمارے ٹیکسوں سے امن ومان کے لیے اربوں روپے مختص ہوتے ہیں لیکن ریاستی ادارے عوام کو امن نہ دے سکے انہوں نے کہا کہ تمام ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید قانون کا راگ نہ الاپے بلوچستان میں عوام اب جینے کاحق مانگ رہی ہے وسائل پر تو ایف سی، اور فوج نے قبضہ کر رکھا تھا اب تو عوام کے جاں ومال پر دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت خاموش اختیار نہیں کرینگی تمام سیاسی جماعتیں اور قبائلی مشران اس ظلم کے خلاف متحد ہو جائے حکومت پرامن احتجاج اور دھرنے کو کمزوری نہ سمجھے اگر فیصلہ ہوگیا تو دمادم مست قلندر ہوگا آج تمام سیاسی جماعتیں اور قبائلی مشران اس ظلم کے خلاف سخت لائحہ عمل طے کرے انہوں نے کہا کہ اغوا برائے تاوان اور قتل اور وحشت ناک واقعات پر صوبائی حکومت اور اداروں کا کیا کردار رہا۔

ادارے اور فوج صرف سرمایہ کاری کے لیے یہاں تعینات ہے حکومت صرف مذمتی بیانات سے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ صوبائی حکومت سے امن کی توقع نہیں رکھا جاسکتا ہے عوام غیر محفوظ اور یہاں پر جنگل کا قانون نافذ ہے وزرا کی پکنک کی تصویروں سے حکومتی رٹ قائم نہیں ہوسکتی ۔قوم کو مزید نام نہاد تنظیموں کی کاروائیوں سے بیوقوف نہیں بنا سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں